hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 18406

.

سنن البيهقي

18406
Sunan Al Bayhaqi
(١٨٤٠٠) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْکَارِزِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ عَنْ أَبِی عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ أَبِی عَرُوبَۃَ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ سُفْیَانَ الْعُقَیْلِیِّ عَنْ أَبِی عِیَاضٍ عَنْ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : لاَ تَشْتَرُوا رَقِیقَ أَہْلِ الذِّمَّۃِ فَإِنَّہُمْ أَہْلُ خَرَاجِ یُؤَدِّی بَعْضُہُمْ عَنْ بَعْضٍ وَأَرَضِیہِمْ فَلاَ تَبْتَاعُوہَا وَلاَ یُقِرَّنَّ أَحَدُکُمْ بِالصَّغَارِ بَعْدَ إِذْ نَجَّاہُ اللَّہُ مِنْہُ ۔ قَالَ أَبُو عُبَیْدٍ : أَرَادَ فِیمَا نُرَی أَنَّہُ إِذَا کَانَتْ لَہُ مَمَالِیکُ وَأَرْضٌ وَأَمْوَالٌ ظَاہِرَۃٌ کَانَتْ أَکْثَرَ لِجِزْیَتِہِ وَہَکَذَا کَانَتْ سُنَّۃُ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِیہِمْ إِنَّمَا کَانَ یَضَعُ الْجِزْیَۃَ عَلَی قَدْرِ الْیَسَارِ وَالْعُسْرِ فَلِہَذَا کَرِہَ أَنْ یُشْتَرَیَ رَقِیقُہُمْ وَأَمَّا شِرَائُ الأَرْضِ فَإِنَّہُ ذَہَبَ فِیہِ إِلَی الْخَرَاجِ کَرِہَ أَنْ یَکُونَ ذَلِکَ عَلَی الْمُسْلِمِینَ أَلاَ تَرَاہُ یَقُولُ وَلاَ یُقِرَّنَّ أَحَدُکُمْ بِالصَّغَارِ بَعْدَ إِذْ نَجَّاہُ اللَّہُ مِنْہُ ۔ قَالَ أَبُو عُبَیْدٍ وَقَدْ رَخَّصَ فِی ذَلِکَ بَعْدَ عُمَرَ رِجَالٌ مِنْ أَکَابِرِ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - مِنْہُمْ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مَسْعُودٍ کَانَتْ لَہُ أَرْضٌ بِرَاذَانَ وَخَبَّابُ بْنُ الأَرَتِ وَغَیْرُہُمَا۔ [ضعیف ]
(١٨٤٠٠) ابو عیاض حضرت عمر (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ تم ذمی شخص سے غلام نہ خریدو، کیونکہ وہ جزیہ دینے والے لوگ ہیں کہ وہ ایک دوسرے سے ادا کرتے ہیں اور ان کی زمینیں بھی نہ خریدو اور تم میں سے کوئی اپنے آپ کو ذلت میں کیوں ڈالتا ہے جب اللہ رب العزت نے اس کو نجات دے دی ہے۔
ابو عبید فرماتے ہیں : جب غلام، زمین اور ظاہری مال ان کے جزیہ سے زیادہ ہوں تو یہ حضرت عمر (رض) کا طریقہ تھا کہ وہ آسانی اور تنگی کی وجہ سے جزیہ کو کم کرلیتے تھے۔ اس وجہ سے ان کے غلاموں کو خریدنا ناپسند کیا گیا اور زمین کا خریدنا وہ جزیہ کی ادائیگی کی طرف لے جائے گا اور جزیہ کا ادا کرنا مسلمانوں پر ہو، یہ ناپسندیدہ بات ہے۔ آپ کا کیا خیال ہے کہ تم میں سے کوئی اپنے آپ کو ذلت میں روکے جب کہ اللہ رب العزت نے اس کو نجات دی ہے۔ حضرت عمر (رض) کے بعد کبار صحابہ جن میں حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) خباب بن ارت (رض) وغیرہ شامل ہیں انھوں نے اس بارے میں رخصت دی ہے۔