hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 18440

.

سنن البيهقي

18440
Sunan Al Bayhaqi
(١٨٤٣٤) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ الشَّرْقِیِّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ ہَاشِمِ بْنِ حَیَّانَ الطُّوسِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ وَأَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ الْمُرَادِیُّ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِینَارٍ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی رَافِعٍ قَالَ سَمِعْتُ عَلِیًّا رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَقُولُ : بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - أَنَا وَالزُّبَیْرَ وَالْمِقْدَادَ فَقَالَ : انْطَلِقُوا حَتَّی تَأْتُوا رَوْضَۃَ خَاخٍ فَإِنَّ بِہَا ظَعِینَۃً مَعَہَا کِتَابٌ ۔ فَخَرَجْنَا تَعَادَی بِنَا خَیْلُنَا فَإِذَا نَحْنُ بِظَعِینَۃٍ فَقُلْنَا أَخْرِجِی الْکِتَابَ فَقَالَتْ مَا مَعِیَ کِتَابٌ فَقُلْنَا لَہَا لَتُخْرِجِنَّ الْکِتَابَ أَوْ لَنُلْقِیَنَّ الثِّیَابَ فَأَخْرَجَتْہُ مِنْ عِقَاصِہَا فَأَتَیْنَا بِہِ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَإِذَا فِیہِ مِنْ حَاطِبِ بْنِ أَبِی بَلْتَعَۃَ إِلَی أُنَاسٍ مِنَ الْمُشْرِکِینَ مِمَّنْ بِمَکَّۃَ یُخْبِرُ بِبَعْضِ أَمْرِ النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَقَالَ : مَا ہَذَا یَا حَاطِبُ ؟ ۔ قَالَ : لاَ تَعْجَلْ عَلَیَّ إِنِّی کُنْتُ امْرَأً مُلْصَقًا فِی قُرَیْشٍ وَلَمْ أَکُنْ مِنْ أَنْفُسِہَا وَکَانَ مَنْ مَعَکَ مِنَ الْمُہَاجِرِینَ لَہُمْ قَرَابَاتٌ یَحْمُونَ بِہَا قَرَابَاتِہِمْ وَلَمْ یَکُنْ لِی بِمَکَّۃَ قَرَابَۃٌ فَأَحْبَبْتُ إِذْ فَاتَنِی ذَلِکَ أَنْ أَتَّخِذَ عِنْدَہُمْ یَدًا وَاللَّہِ مَا فَعَلْتُہُ شَکًّا فِی دِینِی وَلاَ رِضًا بِالْکُفْرِ بَعْدَ الإِسْلاَمِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : إِنَّہُ قَدْ صَدَقَ ۔ فَقَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ دَعْنِی أَضْرِبُ عُنُقَ ہَذَا الْمُنَافِقِ فَقَالَ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : إِنَّہُ قَدْ شَہِدَ بَدْرًا وَمَا یُدْرِیکَ لَعَلَّ اللَّہُ اطَّلَعَ عَلَی أَہْلِ بَدْرٍ فَقَالَ اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ فَقَدْ غَفَرْتُ لَکُمْ ۔ وَنَزَلَتْ { یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا لاَ تَتَّخِذُوا عَدُوِّی وَعَدُوَّکُمْ أَوْلِیَائَ تُلْقُونَ إِلَیْہِمْ بِالْمَوَدَّۃِ } [الممتحنۃ ١] أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ وَمُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ جَمَاعَۃٍ عَنْ سُفْیَانَ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
(١٨٤٣٤) عبید اللہ بن ابی رافع کہتے ہیں : میں نے حضرت علی (رض) سے سنا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے، زبیر (رض) اور مقداد کو روانہ کیا اور فرمایا کہ تم روضہ خاخ نامی جگہ جاؤ وہاں ایک عورت ہوگی جس کے پاس ایک خط ہے۔ ہم نے اپنے گھوڑے بھگائے وہاں پہنچے تو ایک عورت تھی۔ ہم نے خط مانگا تو وہ کہنے لگی میرے پاس خط نہیں ہے۔ ہم نے کہا : خط نکالو وگرنہ تجھے تنگی کردیں گے تو اس نے اپنی مینڈھیوں سے خط نکال کر دے دیا۔ ہم اسے لیکر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے۔ اس میں تھا کہ یہ حاطب بن ابی بلتعہ کی جانب سے مشرکین مکہ کی طرف ہے۔ جس میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعض خبریں دی گئی تھیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : اے حاطب ! یہ کیا ہے ؟ اس نے کہا : آپ جلدی نہ کریں، میں باہر سے آ کر مہاجرین میں ان کی وہاں رشتہ داریاں ہیں تو وہ لوگ اپنے رشتے داروں کی حفاظت کرتے ہیں۔ میری مکہ میں میرا کوئی قریبی نہیں ہے تو میں نے چاہا۔ اس کی جگہ میں ان پر کوئی احسان کر دوں۔ اللہ کی قسم ! میں نے دین کے بارے میں شک کرتے ہوئے اور نہ ہی اسلام کے بعد کفر کو پسند کرنے کی وجہ سے ایسا کیا ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس نے سچ کہا ہے۔ حضرت عمر (رض) کہنے لگے : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! مجھے اجازت دیں، میں اس منافق کی گردن اتار دوں تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ بدری ہے کیا آپ کو معلوم نہیں اللہ رب العزت نے بدر والوں کو دیکھتے ہوئے فرمایا تھا کہ جو تم چاہو عمل کرو، میں نے تمہیں معاف کردیا ہے اور یہ آیت نازل ہوئی : { یاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لاَ تَتَّخِذُوْا عَدُوِّی وَعَدُوَّکُمْ اَوْلِیَآئَ تُلْقُوْنَ اِلَیْہِمْ بِالْمَوَدَّۃ } [الممتحنۃ ١]
اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو تم اپنے اور میرے دشمنوں کو دوست نہ بناؤ۔ تم ان کی جانب محبت کے پیغام بھیجتے ہو۔