hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 18448

.

سنن البيهقي

18448
Sunan Al Bayhaqi
(١٨٤٤٢) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ وَأَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاہِیمَ قَالاَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ أَخْبَرَنَا جَرِیرٌ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاہِیمَ التَّیْمِیِّ عَنْ أَبِیہِ قَالَ : کُنَّا عِنْدَ حُذَیْفَۃَ بْنِ الْیَمَانِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَالَ رَجُلٌ : لَوْ أَدْرَکْتُ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَاتَلْتُ مَعَہُ وَأَبْلَیْتُ فَقَالَ لَہُ حُذَیْفَۃُ : أَنْتَ کُنْتَ تَفْعَلُ ذَاکَ لَقَدْ رَأَیْتُنَا مَعَ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - لَیْلَۃَ الأَحْزَابِ فِی لَیْلَۃٍ ذَاتَ رِیحٍ شَدِیدَۃٍ وَقُرٍّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : أَلاَ رَجُلٌ یَأْتِینِی بِخَبَرِ الْقَوْمِ یَکُونُ مَعِی یَوْمَ الْقِیَامَۃِ ۔ فَلَمْ یُجِبْہُ مِنَّا أَحَدٌ ثُمَّ الثَّانِیَۃَ مِثْلَہُ ثُمَّ قَالَ : یَا حُذَیْفَۃُ قُمْ فَأْتِنَا بِخَبَرِ الْقَوْمِ ۔ فَلَمْ أَجِدْ بُدًّا إِذْ دَعَانِی بِاسْمِی أَنْ أَقُومَ فَقَالَ : ائْتِنِی بِخَبَرِ الْقَوْمِ وَلاَ تَذْعَرْہُمْ عَلَیَّ ۔ قَالَ : فَمَضَیْتُ کَأَنَّمَا أَمْشِی فِی حَمَّامٍ حَتَّی أَتَیْتُہُمْ فَإِذَا أَبُو سُفْیَانَ یَصْلِی ظَہْرَہُ بِالنَّارِ فَوَضَعْتُ سَہْمِی فِی کَبِدِ قَوْسِی وَأَرَدْتُ أَنْ أَرْمِیَہُ ثُمَّ ذَکَرْتُ قَوْلَ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : لاَ تَذْعَرْہُمْ عَلَیَّ ۔ وَلَوْ رَمَیْتُہُ لأَصَبْتُہُ قَالَ : فَرَجَعْتُ کَأَنَّمَا أَمْشِی فِی حَمَّامٍ فَأَتَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - ثُمَّ أَصَابَنِی الْبَرْدُ حِینَ فَرَغْتُ وَقُرِرْتُ فَأَخْبَرْتُ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَأَلْبَسَنِی رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - مِنْ فَضْلِ عَبَائَ ۃٍ کَانَتْ عَلَیْہِ یُصَلِّی فِیہَا فَلَمْ أَزَلْ نَائِمًا حَتَّی الصُّبْحِ فَلَمَّا أَنْ أَصْبَحْتُ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : قُمْ یَا نَوْمَانُ ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ ۔ [صحیح۔ مسلم ١٧٨٨]
(١٨٤٤٢) ابراہیم تیمی اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ ہم حذیفہ بن یمان کے پاس تھے۔ ایک شخص نے کہا کہ اگر میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پا لیتا تو میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ لڑتے ہوئے اپنے آپ کو بوڑھا کرلیتا تو حذیفہ نے کہا : کیا تو یہ کام کرے گا۔ ہم نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ غزوہ احزاب کی راتوں میں سے ایک رات کو سخت ہوا والی اور ٹھنڈی پایا۔ تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کوئی شخص مجھے قوم کی خبر لا کر دے، وہ قیامت کے دن میرے ساتھ ہوگا تو ہم میں سے کسی نے بھی جواب نہ دیا۔ پھر دوسری مرتبہ اسی طرح فرمایا، پھر فرمایا : اے حذیفہ ! ہمارے پاس قوم کی خبر لیکر آؤ۔ اب میرے پاس کوئی چارہ نہ تھا، جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرا نام لیکر مجھے کھڑا ہونے کو کہا تو فرمایا : قوم کی خبر لاؤ تو ان کو میرے بارے میں خبر نہ دینا۔ کہتے ہیں : میں گیا گویا کہ میں سکون سے چل رہا تھا۔ جب میں ابو سفیان کے قریب آیا : تو وہ اپنی کمر کو آگ سے تاپ رہا تھا۔ میں نے اپنا تیر کمان میں رکھا اور اسے تیر مارنے کا ارادہ کیا۔ پھر مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بات یاد آگئی کہ آپ نے فرمایا تھا کہ ان کو میرے خلاف نہ بھڑکانا، اگر میں اس کو تیر مارتا تو ہلاک کرسکتا تھا۔ کہتے ہیں : میں واپس آیا کہ میں گرمی کے اندر ہی چل رہا تھا۔ جب میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا پھر مجھے ٹھنڈک محسوس ہوئی۔ جب میں اپنے کام سے فارغ ہوچکا تھا۔ میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بتایا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے چادر کا زائد حصہ میرے اوپر ڈال دیا، پھر میں صبح تک سویا رہا۔ جب میں نے صبح کی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے سونے والے ! اٹھ جا۔