(١٨٤٦٢) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا مُعَاوِیَۃُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنْ مُوسَی بْنِ عُقْبَۃَ عَنْ سَالِمٍ أَبِی النَّضْرِ مَوْلَی عُمَرَ بْنِ عُبَیْدِ اللَّہِ وَکَانَ کَاتِبًا لَہُ قَالَ : کَتَبَ إِلَیْہِ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَبِی أَوْفَی رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ حِینَ خَرَجَ إِلَی الْحَرُورِیَّۃِ فَقَرَأْتُہُ فَإِذَا فِیہِ : إِنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فِی بَعْضِ أَیَّامِہِ الَّتِی لَقِیَ فِیہَا الْعَدُوَّ انْتَظَرَ حَتَّی مَالَتِ الشَّمْسُ ثُمَّ قَامَ فِی النَّاسِ فَقَالَ : یَا أَیُّہَا النَّاسُ لاَ تَتَمَنَّوْا لِقَائَ الْعَدُوِّ وَسَلُوا اللَّہَ الْعَافِیَۃَ فَإِذَا لَقِیتُمُوہُمْ فَاصْبِرُوا وَاعْلَمُوا أَنَّ الْجَنَّۃَ تَحْتَ ظِلاَلِ السُّیُوفِ ۔ ثُمَّ قَالَ : اللَّہُمَّ مُنْزِلَ الْکِتَابِ وَمُجْرِیَ السَّحَابِ وَہَازِمَ الأَحْزَابِ اہْزِمْہُمْ وَانْصُرْنَا عَلَیْہِمْ ۔ قَالَ وَقَالَ أَبُو النَّضْرِ وَبَلَغَنَا : أَنَّ النَّبِیَّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - دَعَا فِی مِثْلِ ذَلِکَ فَقَالَ : أَنْتَ رَبُّنَا وَرَبُّہُمْ وَنَحْنُ عَبِیدُکَ وَہُمْ عَبِیدُکَ وَنَوَاصِینَا وَنَوَاصِیہِمْ بِیَدِکَ فَاہْزِمْہُمْ وَانْصُرْنَا عَلَیْہِمْ ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ عَمْرٍو وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِیثِ ابْنِ جُرَیْجٍ عَنْ مُوسَی بْنِ عُقْبَۃَ دُونَ بَلاَغِ أَبِی النَّضْرِ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
(١٨٤٦٢) سالم ابو نضر جو عمر بن عبید اللہ کے غلام ہیں اور ان کے کاتب تھے، فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن ابی اوفی (رض) نے حدوریہ کی جانب نکلتے وقت خط لکھا، جس میں یہ تھا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بعض دنوں میں جب دشمن سے لڑتے تو سورج کے ڈھل جانے کا انتظار کرتے۔ پھر لوگوں میں یہ بات ارشاد فرماتے : اے لوگو ! دشمن سے ملاقات کی تمنا نہ کرو اور اللہ سے عافیت کا سوال کرو اور جب تم دشمن سے ملو تو صبر کرو اور جان لو کہ جنت تلواروں کے سائے تلے ہے۔ پھر فرمایا : اے کتاب کو نازل کرنے والے، بادلوں کو چلانے والے، لشکروں کو شکست دینے والے ! ان کو شکست دے اور ان کے خلاف ہماری مدد فرما۔ راوی کہتے ہیں کہ ابو نضر نے کہا : ہمیں یہ خبر ملی کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کی مثل دعا کی کہ ہماری اور ان کی پیشانیاں تیرے ہاتھ میں ہیں۔ ان کو شکست دے اور ان کے خلاف ہماری مدد فرما۔