(١٨٤٨٠) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَی
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالاَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ عَنْ یَزِیدَ بْنِ أَبِی نُشْبَۃَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : ثَلاَثٌ مِنْ أَصْلِ الإِیمَانِ الْکَفُّ عَمَّنْ قَالَ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ لاَ یُکَفِّرُہُ بِذَنْبٍ وَلاَ یُخْرِجُہُ مِنَ الإِسْلاَمِ بِعَمَلٍ وَالْجِہَادُ مَاضٍ مُنْذُ بَعَثَنِی اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَی أَنْ یُقَاتِلَ آخَرُ أُمَّتِی الدَّجَّالَ لاَ یُبْطِلُہُ جَوْرُ جَائِرٍ وَلاَ عَدْلُ عَادِلٍ وَالإِیمَانُ بِالأَقْدَارِ ۔
وَحَدِیثُ مَکْحُولٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : الْجِہَادُ وَاجِبٌ عَلَیْکُمْ مَعَ کُلِّ أَمِیرٍ بَرًّا کَانَ أَوْ فَاجِرًا۔ قَدْ مَضَی فِی بَابِ الإِمَامَۃِ وَکِتَابِ الْجَنَائِزِ ۔ [ضعیف ]
(١٨٤٨٠) حضرت انس بن مالک (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تین چیزیں ایمان کی اصل ہیں : 1 اس سے رک جانا جو اس بات کی گواہی دے کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں۔ کسی گناہ کی وجہ سے اسے کافر نہ کہے عمل کی وجہ سے اسلام سے خارج نہ کہے۔ 2 جہاد قیامت تک جاری رہے گا۔ جب سے اللہ نے مجھے مبعوث کیا ہے اور میری امت کا آخری فرد دجال سے جہاد کرے گا۔ کسی عادل کا عدل اور کسی ظالم کا ظلم اسے باطل نہ کرے گا۔ 3 تقدیر پر ایمان لانا۔ (ب) حضرت ابوہریرہ (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل فرماتے ہیں کہ ہر نیک وبد امیر کے ساتھ جہاد واجب ہے۔