(١٨٤٨٤) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِیَادٍ حَدَّثَنَا عُمَارَۃُ بْنُ الْقَعْقَاعِ عَنْ أَبِی زُرْعَۃَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِیرٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : انْتَدَبَ اللَّہُ لِمَنْ خَرَجَ مُجَاہِدًا فِی سَبِیلِہِ لاَ یُخْرِجُہُ إِلاَّ إِیمَانٌ بِی وَتَصْدِیقٌ بِرَسُولِی فَہُوَ عَلَیَّ ضَامِنٌ أَنْ أُدْخِلَہُ الْجَنَّۃَ أَوْ أَرْجِعَہُ إِلَی بَیْتِہِ الَّذِی خَرَجَ مِنْہُ نَائِلاً مَا نَالَ مِنْ أَجْرٍ وَغَنِیمَۃٍ ۔ وَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : مَا مِنْ مَکْلُومٍ یُکْلَمُ فِی اللَّہِ إِلاَّ جَائَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَکَلْمُہُ یَدْمَی اللَّوْنُ لَوْنُ دَمٍ وَالرِّیحُ رِیحُ مِسْکٍ ۔ وَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ لَوْلاَ أَنْ أَشُقَّ عَلَی أُمَّتِی مَا تَخَلَّفْتُ خَلْفَ سَرِیَّۃٍ تَغْزُو فِی سَبِیلِ اللَّہِ وَلَکِنْ لاَ أَجِدُ مَا أَحْمِلُہُمْ وَلاَ یَجِدُونَ سَعَۃً فَیَتَّبِعُونِی وَلاَ تَطِیبُ أَنْفُسُہُمْ أَنْ یَتَخَلَّفُوا بَعْدِی ۔ وَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ لَوَدِدْتُ أَنِّی أَغْزُو فِی سَبِیلِ اللَّہِ فَأُقْتَلُ ثُمَّ أَغْزُو فَأُقْتَلُ ثُمَّ أَغْزُو فَأُقْتَلُ ۔
حَدِیثُ الْکَلْمِ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُسَدَّدٍ وَرَوَی الْبَاقِیَ عَنْ حَرَمِیِّ بْنِ حَفْصٍ عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِیثِ جَرِیرِ بْنِ عَبْدِ الْحَمِیدِ عَنْ عُمَارَۃَ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
(١٨٤٨٤) اللہ فرماتے ہیں : وہ شخص جو اس کے راستے میں جہاد کرتا ہے میرے ساتھ ایمان لانے اور میرے رسولوں کی تصدیق کی وجہ سے تو میرے ذمہ ہے کہ میں اس کو جنت میں داخل کروں یا اس کو اس کے گھر واپس کروں، جہاں سے وہ آیا ہے اس حالت میں کہ جو اس نے ثواب اور غنیمت حاصل کی ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو شخص اللہ کے لیے زخم کھاتا ہے وہ کل قیامت کے دن آئے گا۔ اس کے زخم سے خون بہہ رہا ہوگا۔ جس کی رنگت خون جیسی اور حوشبو کستوری جیسی ہوگی اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر میری امت پر مشقت نہ ہوتی تو میں کسی سریہ سے بھی پیچھے نہ رہتا۔ جو اللہ کے راستہ میں جہاد کرتے ہیں نہ تو میں ان کے لیے سواریاں پاتا ہوں اور نہ ان کے پاس اتنی طاقت ہے کہ وہ میرے پیچھے آسکیں اور نہ ہی ان کو یہ پسند ہے کہ وہ میرے بعد پیچھے رہ سکیں اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فرمایا : اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ مجھے یہ بات پسند ہے کہ میں اللہ کے راستے میں جہاد کروں۔ پھر میں قتل کیا جاؤں۔ پھر میں جہاد کروں۔ پھر میں قتل کیا جاؤں۔ پھر میں جہاد کروں۔ پھر میں قتل کیا جاؤں۔