(١٨٥٠٧) أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ بْنُ شَرِیکٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْجُمَاہِرِ حَدَّثَنَا الْہَیْثَمُ یَعْنِی ابْنَ حُمَیْدٍ حَدَّثَنَا الْعَلاَئُ بْنُ الْحَارِثِ عَنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِی أُمَامَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّ رَجُلاً أَتَی رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَقَالَ ائْذَنْ لِی فِی الزِّنَا قَالَ فَہَمَّ مَنْ کَانَ قُرْبَ النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - أَنْ یَتَنَاوَلُوہُ فَقَالَ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : دَعُوہُ ۔ ثُمَّ قَالَ لَہُ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : ادْنُہْ أَتُحِبُّ أَنْ یُفْعَلَ ذَلِکَ بِأُخْتِکَ ۔ قَالَ : لاَ قَالَ : فَبِابْنَتِکَ ۔ قَالَ : فَلَمْ یَزَلْ یَقُولُ بِکَذَا وَکَذَا کُلَّ ذَلِکَ یَقُولُ : لاَ فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : فَاکْرَہْ مَا کَرِہَ اللَّہُ وَأَحِبَّ لأَخِیکَ مَا تُحِبُّ لِنَفْسِکَ ۔ قَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ فَادْعُ اللَّہَ أَنْ یُبَغِّضَ إِلَیَّ النِّسَائَ قَالَ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : اللَّہُمَّ بَغِّضْ إِلَیْہِ النِّسَائَ ۔ قَالَ : فَانْصَرَفَ الرَّجُلُ ثُمَّ رَجَعَ إِلَیْہِ بَعْدَ لَیَالٍ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ مَا مِنْ شَیْئٍ أَبْغَضَ إِلَیَّ مِنَ النِّسَائِ فَائْذَنْ لِی بِالسِّیَاحَۃِ فَقَالَ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : إِنَّ سِیَاحَۃَ أُمَّتِی الْجِہَادُ فِی سَبِیلِ اللَّہِ ۔
[حسن ]
(١٨٥٠٧) ابوامامہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کی اجازت طلب کی۔ راوی کہتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قریب بیٹھے ہوئے افراد نے اس کو پکڑنے کی کوشش کی۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم اسے چھوڑ دو ۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : قریب ہوجاؤ، کیا آپ کو یہ پسند ہے کہ آپ کی بہن سے زنا کیا جائے۔ میں نے کہا : نہیں۔ آپ نے پوچھا : تیری بیٹی سے۔ راوی کہتے ہیں : آپ بار بار اسے یہ کہتے رہے تو وہ ہر مرتبہ نفی میں جو اب دیتا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تو بھی ناپسند کر اس بات کو جس کو اللہ ناپسند کرتے ہیں۔ اور اپنے بھائی کے لیے بھی وہی پسند کر جو تو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔ اس شخص نے کہا : اے اللہ کے رسول ! آپ اللہ سے دعا کریں کہ اللہ مجھے عورتوں سے نفرت پیدا کر دے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اے اللہ ! تو عورتوں کو اس کے لیے متنفر فرما۔ راوی کہتے ہیں کہ چند دنوں کے بعد وہ پھر واپس آیا۔ اس نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! عورتوں سے زیادہ بری چیز میرے نزدیک کوئی نہیں۔ آپ مجھے سیر و تفریح کی اجازت دیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ میری امت کی سیر و سیاحت جہاد فی سبیل اللہ میں ہے۔