hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 18524

.

سنن البيهقي

18524
Sunan Al Bayhaqi
(١٨٥١٨) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَی أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ أَخْبَرَنَا جَرِیرٌ وَعِیسَی بْنُ یُونُسَ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مُرَّۃَ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّہُ سُئِلَ عَنْ أَرْوَاحِ الشُّہَدَائِ فَقَالَ قَدْ سَأَلْنَا عَنْ ذَلِکَ فَقَالَ : أَرْوَاحُہُمْ کَطَیْرٍ خُضْرٍ لَہَا قَنَادِیلُ مُعَلَّقَۃٌ فِی الْعَرْشِ تَسْرَحُ حَیْثُ شَائَ تْ ثُمَّ تَأْوِی إِلَی قَنَادِیلِہَا فَبَیْنَمَا ہُمْ عَلَی ذَلِکَ إِذِ اطَّلَعَ عَلَیْہِمْ رَبُّکَ اطِّلاَعَۃً فَیَقُولُ مَا تَشْتَہُونَ فَیَقُولُونَ وَمَا نَشْتَہِی وَنَحْنُ فِی الْجَنَّۃِ نَسْرَحُ حَیْثُ شِئْنَا فَإِذَا رَأَوْا أَنْ لاَ بُدَّ مِنْ أَنْ یَسْأَلُوا قَالُوا تُرَدُّ أَرْوَاحُنَا فِی أَجْسَادِنَا فَنُقَاتِلُ فِی سَبِیلِ اللَّہِ فَنُقْتَلُ مَرَّۃً أُخْرَی فَإِذَا رَأَی أَنْ لاَ یَسْأَلُوہُ شَیْئًا تَرَکَہُمْ ۔ لَفْظُ حَدِیثِ أَبِی عَبْدِ اللَّہِ وَفِی رِوَایَۃِ الْمُقْرِئِ قَالَ : سَأَلْنَا عَبْدَ اللَّہِ بْنَ مَسْعُودٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَنْ ہَذِہِ الآیَۃِ { وَلاَ تَحْسَبَنَّ الَّذِینَ قُتِلُوا فِی سَبِیلِ اللَّہِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْیَائٌ عِنْدَ رَبُّہُمْ یُرْزَقُونَ فَرِحِینَ } [آل عمران ١٦٩-١٧٠] قَالَ : أَمَا إِنَّا قَدْ سَأَلْنَا عَنْ ذَلِکَ ثُمَّ ذَکَرَ مَعْنَاہُ ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی عَنْ أَبِی مُعَاوِیَۃَ وَعَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
(١٨٥١٨) مسروق حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ ان سے شہداء کی روحوں کے بارے میں سوال کیا گیا تو انھوں نے فرمایا : ہم نے بھی ان کے بارے میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے استفسار کیا تھا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تھا کہ ان شہداء کی ارواح سبز پرندوں کے پیٹوں میں ہیں۔ ان کے لیے عرش کے نیچے فانوس معلق ہیں، وہ جہاں چاہتے ہیں اڑتے پھرتے ہیں۔ پھر ان فانوسوں میں رہتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ان کی طرف متوجہ ہو کر پوچھتا ہے کہ تمہیں کچھ چاہیے ؟ وہ کہتے ہیں کہ ہمیں کیا چاہیے جب کہ ہم جنت میں جہاں چاہتے ہیں اڑتے پھرتے ہیں اور جب انھوں نے محسوس کیا کہ ان سے پوچھا جاتا رہے گا۔ تب انھوں نے عرض کیا : اے پروردگار ! ہم چاہتے ہیں کہ آپ ہماری ارواح کو ہمارے جسموں میں داخل فرمائیں تاکہ ایک مرتبہ پھر تیرے راستے میں کٹ مریں۔ جب اللہ تعالیٰ نے دیکھا کہ انھیں ضرورت نہیں تو ان کو ویسے چھوڑ دیا جائے گا۔ (ب) ۔ مقری کی روایت میں ہے کہ ہم نے اس آیت کے بارے میں عبداللہ بن مسعود (رض) سے پوچھا : { وَلاَ تَحْسَبَنَّ الَّذِینَ قُتِلُوا فِی سَبِیلِ اللَّہِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْیَائٌ عِنْدَ رَبُّہُمْ یُرْزَقُونَ فَرِحِینَ۔۔۔} [آل عمران ١٦٩-١٧٠] جو لوگ اللہ کے راہ میں مارے گئے ہیں، انھیں مردہ نہ سمجھو بلکہ وہ اللہ کے ہاں زندہ ہیں اور انھیں رزق مل رہا ہے۔ کہتے ہیں : ہم نے اس کے بارے میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بھی پوچھا تھا۔