(١٨٥٢٣) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّیَالِسِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْمُبَارَکِ حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو السَّکْسَکِیُّ عَنْ أَبِی الْمُثَنَّی الْمُلَیْکِیِّ عَنْ عُتْبَۃَ بْنِ عَبْدٍ السُّلَمِیِّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَکَانَتْ لَہُ صُحْبَۃٌ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَالَ : الْقَتْلَی ثَلاَثَۃٌ رَجُلٌ مُؤْمِنٌ خَرَجَ بِنَفْسِہِ وَمَالِہِ فَلَقِیَ الْعَدُوَّ فَقَاتَلَ حَتَّی یُقْتَلُ فَذَلِکَ الْمُمْتَحَنُ فِی خَیْمَۃِ اللَّہِ تَحْتَ عَرْشِہِ لاَ یَفْضُلُہُ النَّبِیُّونَ إِلاَّ بِدَرَجَۃِ النُّبُوَّۃِ وَرَجُلٌ مُؤْمِنٌ قَرَفَ عَلَی نَفْسِہِ مِنَ الذُّنُوبِ وَالْخَطَایَا لَقِیَ الْعَدُوَّ فَقَاتَلَ حَتَّی یُقْتَلُ فَتِلْکَ مُمَصْمِصَۃٌ مَحَتْ ذُنُوبَہُ وَخَطَایَاہُ إِنَّ السَّیْفَ مَحَّائٌ لِلْخَطَایَا وَقِیلَ لَہُ ادْخُلْ مِنْ أَیِّ أَبْوَابِ الْجَنَّۃِ الثَّمَانِیَۃِ شِئْتَ فَإِنَّہَا ثَمَانِیَۃُ أَبْوَابٍ وَلِجَہَنَّمَ سَبْعَۃُ أَبْوَابٍ بَعْضُہَا أَفْضَلُ مِنْ بَعْضٍ یَعْنِی أَبْوَابَ الْجَنَّۃِ وَرَجُلٌ مُنَافِقٌ خَرَجَ بِنَفْسِہِ وَمَالِہِ فَقَاتَلَ حَتَّی یُقْتَلُ فَذَاکَ فِی النَّارِ إِنَّ السَّیْفَ لاَ یَمْحُو النِّفَاقَ ۔[ضعیف ]
(١٨٥٢٣) عتبہ بن عبد سلمی فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مقتول تین قسم کے ہیں، ایسا شخص جو اپنی جان اور مال لیکر دشمن کے مقابلہ میں لڑتے ہوئے شہید ہوجاتا ہے تو اللہ اس شخص کو عرش کے نیچے جگہ عطا کرتے ہیں اور انبیاء نبوت کی وجہ سے ایک درجہ اس سے اوپر ہوتے ہیں اور ایسا شخص جو گناہ کرنے کے بعد میدانِ جہاد میں دشمن سے لڑتے ہوئے شہید ہوجاتا ہے تو یہ شہادت اس کے گناہوں اور غلطیوں کو ختم کردیتی ہے۔ کیونکہ تلوار غلطیوں کو ختم کرنے والی ہے اور ایسے شخص سے کہا جائے گا کہ جنت کے آٹھ دروازوں میں سے جس سے چاہے داخل ہوجائے۔ جنت کے آٹھ اور جہنم کے سات دروازے ہیں اور جنت کے دروازے ایک دوسرے سے فضیلت رکھتے ہیں اور منافق آدمی اپنے مال وجان کے ساتھ میدان جہاد میں لڑائی کرتے ہوئے مارا جائے تو یہ جہنمی ہے کیونکہ تلوار نفاق کو ختم نہیں کرتی۔