hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 18549

.

سنن البيهقي

18549
Sunan Al Bayhaqi
(١٨٥٤٣) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنَزِیُّ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ الدَّارِمِیُّ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّ عَمْرَو بْنَ أُقَیْشٍ کَانَ لَہُ رِبًا فِی الْجَاہِلِیَّۃِ فَکَرِہَ أَنْ یُسْلِمَ حَتَّی یَأْخُذَہُ فَجَائَ یَوْمَ أُحُدٍ فَقَالَ أَیْنَ بَنُو عَمِّی فَقَالُوا بِأُحُدٍ فَقَالَ أَیْنَ فُلاَنٌ قَالُوا بِأُحُدٍ قَالَ : أَیْنَ فُلاَنٌ قَالُوا : بِأُحُدٍ فَلَبِسَ لأْمَتَہُ وَرَکِبَ فَرَسَہُ ثُمَّ تَوَجَّہَ قِبَلَہُمْ فَلَمَّا رَآہُ الْمُسْلِمُونَ قَالُوا : إِلَیْکَ عَنَّا یَا عَمْرُو فَقَالَ : إِنِّی قَدْ آمَنْتُ فَقَاتَلَ حَتَّی جُرِحَ فَحُمِلَ إِلَی أَہْلِہِ جَرِیحًا فَجَائَ ہُ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ فَقَالَ لأُخْتِہِ : سَلِیہِ حَمِیَّۃً لِقَومِکَ أَمْ غَضَبًا لَہُمْ أَمْ غَضَبًا لِلَّہِ وَرَسُولِہِ فَقَالَ : بَلْ غَضَبًا لِلَّہِ وَرَسُولِہِ فَمَاتَ فَدَخَلَ الْجَنَّۃَ وَمَا صَلَّی لِلَّہِ صَلاَۃً ۔
(١٨٥٤٣) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ عمر وبن اقیس کا جاہلیت کا سود تھا۔ صرف سود کی وجہ سے اسلام قبول نہ کرسکا۔ احد کے دن آیا اور کہنے لگا : میرے چچا کا بیٹا کدھر ہے ؟ انھوں نے کہا : احد میں۔ پھر اس نے پوچھا : فلاں کہا ہے ؟ انھوں نے کہا : وہ بھی احد میں۔ اس نے پھر پوچھا : فلاں کدھ رہے ؟ انھوں نے کہا : وہ بھی غزوہ احد میں ہے۔ اس نے زرع پہنی گھوڑے پر سوار ہو کر ان کی جانب متوجہ ہوا۔ جب مسلمانوں نے دیکھا تو کہنے لگے : اے عمرو (رض) ! ہم سے دور رہنا۔ اس نے کہا : میں نے اسلام قبول کرلیا ہے۔ پھر لڑائی کرتے ہوئے زخمی ہوگیا تو خمی حالت میں اسے لایا گیا۔ سعد بن معاذ (رض) نے اپنی بہن سے کہا : پوچھو قومی غیرت ، ان کے لیے غصہ میں آکر یا اللہ اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے لڑا۔ اس نے کہا : نہیں بلکہ اللہ اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے غضب کے لیے وہ فوت ہو کر جنت میں داخل ہوگیا اور اس نے ایک بھی نماز نہ پڑھی تھی۔