(١٨٥٦٢) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ حَمْشَاذٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَمْرٍو الضَّبِّیُّ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ أَخْبَرَنَا شُعْبَۃُ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنْ حَسَّانَ بْنِ فَائِدٍ عَنْ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : الشَّجَاعَۃُ وَالْجُبْنُ غَرَائِزُ فِی النَّاسِ تَلْقَی الرَّجُلَ یُقَاتِلُ عَمَّنْ لاَ یَعْرِفُ وَتَلْقَی الرَّجُلَ یَفِرُّ عَنْ أَبِیہِ وَالْحَسَبُ الْمَالُ وَالْکَرَمُ التَّقْوَی لَسْتَ بِأَخْیَرَ مِنْ فَارِسِیٍّ وَلاَ عَجَمِیٍّ إِلاَّ بِالتَّقْوَی۔ [حسن لغیرہ ]
(١٨٥٦٢) حسان بن فاء حضرت عمر (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ بہادری اور بزدلی لوگوں کی فطرت میں ہے۔ وہ انسان کو مل جاتی ہے جب وہ ایک دوسرے سے لڑائی کرتے ہیں۔ جس کو وہ پہچانتا نہیں اور کسی ایسے شخص سے ملاقات کرتا ہے جو اپنے باپ سے بھاگا ہوا ہو اور حسب کا معنی مال اور کرم کا معنی تقوی تو کسی فارسی وعجمی سے بہتر صرف تقوی کی بنیاد پر ہوسکتا ہے۔