(١٨٥٦٧) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ أَخْبَرَنَا جَرِیرُ بْنُ حَازِمٍ حَدَّثَنَا بَشَّارُ بْنُ أَبِی سَیْفٍ عَنِ الْوَلِیدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عِیَاضِ بْنِ غُطَیْفٍ قَالَ یَزِیدُ وَأَخْبَرَنَا ہِشَامُ بْنُ حَسَّانَ عَنْ وَاصِلٍ مَوْلَی أَبِی عُیَیْنَۃَ عَنِ الْوَلِیدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عِیَاضِ بْنِ غُطَیْفٍ قَالَ : دَخَلْنَا عَلَی أَبِی عُبَیْدَۃَ بْنِ الْجَرَّاحِ فِی مَرَضِہِ الَّذِی مَاتَ فِیہِ وَعِنْدَہُ امْرَأَتُہُ تُحَیْفَۃُ وَوَجْہُہُ مِمَّا یَلِی الْحَائِطَ فَقُلْنَا کَیْفَ بَاتَ أَبُو عُبَیْدَۃَ ؟ فَقَالَتْ : بَاتَ بِأَجْرٍ فَالْتَفَتَ إِلَیْنَا فَقَالَ : مَا بِتُّ بِأَجْرٍ فَسَائَ نَا ذَلِکَ وَسَکَتْنَا فَقَالَ أَلاَ تَسْأَلُونَ عَمَّا قُلْتُ فَقُلْنَا مَا سَرَّنَا ذَلِکَ فَنَسْأَلَکَ عَنْہُ فَقَالَ إِنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَقُولُ : مَنْ أَنْفَقَ نَفَقَۃً فَاضِلَۃً فِی سَبِیلِ اللَّہِ فَبِسَبْعِمِائَۃِ ضِعْفٍ وَمَنْ أَنْفَقَ عَلَی نَفْسِہِ وَأَہْلِہِ أَوْ مَازَ أَذًی عَنِ الطَّرِیقِ أَوْ تَصَدَّقَ بِصَدَقَۃٍ فَحَسَنَۃٌ بِعَشْرِ أَمْثَالِہَا وَالصَّوْمُ جُنَّۃٌ مَا لَمْ یَخْرِقْہَا وَمَنِ ابْتَلاَہُ اللَّہُ بِبَلاَئٍ فِی جَسَدِہِ فَہُوَ لَہُ حِطَّۃٌ ۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ ]
(١٨٥٦٧) ولید بن عبد الرحمن، ریاض بن غطیف سے نقل فرماتے ہیں کہ ہم ابو عبیدہ بن جراح کے پاس مرض الموت میں حاضر ہوئے اور ان کی بیوی ان کے پاس تھی، ان کا چہرہ دیوار کی جانب تھا۔ ہم نے پوچھا : ابو عبیدہ رات کیسے گزاری ؟ تو بیوی نے کہا : رات ثواب کے حصول میں گزاری تو ابو عبیدہ نے ہماری جانب مڑ کے دیکھا اور فرمایا : میں نے رات اجر میں نہیں گزاری۔ ہمیں برا لگا تو اس کی بیوی نے ہمیں خاموش کروا دیا تو وہ کہنے لگے : تم مجھ سے پوچھتے کیوں نہیں ہو جو میں نے کہا : ہم نے کہا : ہمیں اس سے خوشی نہیں ہوئی کہ ہم آپ سے اس کے بارے میں سوال کریں۔ اس نے کہا : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس نے اللہ کے راستہ میں زائد مال خرچ کیا اسے سات سو گنا تک اجر دیا جائے گا اور جس نے اپنے اور گھر والوں پر خرچ کیا یا جس نے راستہ سے تکلیف دہ چیز کو ہٹایا یا کوئی صدقہ کیا تو اس کی نیکی کا دس گنا اجر دیا جائے گا اور روزے کو مکمل کرنے کی صورت میں یہ ڈھال کا کام دے گا اور جسے اللہ رب لعزت نے کسی جسمانی بیماری میں مبتلا کردیا تو یہ بیماری اس کے لیے گناہوں کی معافی کا سبب بن جائے گی۔