(۱۸۵۹) أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنِ حَیَّانَ أَبُو الشَّیْخِ حَدَّثَنَا عَبْدَانُ حَدَّثَنَا ہِلاَلُ بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنَا عُمَیْرُ بْنُ عِمْرَانَ الْعَلاَّفُ حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ عُتْبَۃَ عَنْ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ وَائِلٍ عَنْ أَبِیہِ قَالَ: حَقٌّ وَسُنَّۃٌ مَسْنُونَۃٌ أَنْ لاَ یُؤَذِّنُ إِلاَّ وَہُوَ طَاہِرٌ وَلاَ یُؤَذِّنُ إِلاَّ وَہُوَ قَائِمٌ۔
عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ وَائِلٍ عَنْ أَبِیہِ مُرْسَلٌ۔ (ق) وَہُوَ قَوْلُ عَطَائِ بْنِ أَبِی رَبَاحٍ وَقَالَ إِبْرَاہِیمُ النَّخَعِیُّ کَانُوا لاَ یَرَوْنَ بَأْسًا أَنْ یُؤَذِّنَ الرَّجُلُ عَلَی غَیْرِ وُضُوئٍ۔ وَبِہِ قَالَ الْحَسَنُ الْبَصْرِیُّ وَقَتَادَۃُ وَالْکَلاَمُ فِیہِ یَرْجِعُ إِلَی اسْتِحْبَابِ الطَّہَارَۃِ فِی الأَذْکَارِ وَقَدْ مَضَی فِی کِتَابِ الطَّہَارَۃِ۔ [ضعیف]
(١٨٥٩) (الف) عبد الجبار بن وائل اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ حق اور سنت یہ ہے کہ صرف باوضوشخص کھڑے ہو کر اذان دے۔ (ب) عبدالجبار بن وائل اپنے والد سے مرسل روایت نقل کرتے ہیں۔ یہ عطاء بن ابی رباح کا قول ہے۔ ابراہیم نخعی کہتے ہیں کہ وہ بغیر وضو اذان دینے میں کوئی حرج محسوس نہیں کرتے تھے، یہی قول حسن بصری اور قتادہ کا ہے ، لیکن وضو کے ساتھ اذان مستحب ہے یہ بات کتاب الطہارۃ میں گزر چکی ہے۔