(١٨٦٢٠) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ الْقَزَّازُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ حُمْرَانَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِیدِ بْنُ جَعْفَرٍ عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ الْعَلاَئِ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ سَمِعْتُ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا تَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَقُولُ : لاَ یَذْہَبُ اللَّیْلُ وَالنَّہَارُ حَتَّی تُعْبَدَ اللاَّتُ وَالْعُزَّی ۔ قُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنْ کُنْتُ لأَظُنُّ أَنَّ اللَّہَ حِینَ أَنْزَلَ { ہُوَ الَّذِی أَرْسَلَ رَسُولَہُ بِالْہُدَی وَدِینِ الْحَقِّ لِیُظْہِرَہُ عَلَی الدِّینِ کُلِّہِ } [التوبۃ ٣٣] أَنَّ ذَلِکَ تَامٌّ قَالَ : إِنَّہُ سَیَکُونُ مِنْ ذَلِکَ مَا شَائَ اللَّہُ ثُمَّ یَبْعَثُ اللَّہُ رِیحًا طَیِّبَۃً فَتَوَفَّی مَنْ کَانَ فِی قَلْبِہِ مِثْقَالُ حَبَّۃِ خَرْدَلٍ مِنْ إِیمَانٍ فَیَبْقَی مَنْ لاَ خَیْرَ فِیہِ فَیَرْجِعُونَ إِلَی دِینِ آبَائِہِمْ ۔
أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ خَالِدِ بْنِ الْحَارِثِ وَأَبِی بَکْرٍ الْحَنَفِیِّ عَنْ عَبْدِ الْحَمِیدِ بْنِ جَعْفَرٍ ۔
قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ : وَکَانَتْ قُرَیْشٌ تَنْتَابُ الشَّامَ انْتِیَابًا کَثِیرًا وَکَانَ کَثِیرٌ مِنْ مَعَاشِہَا مِنْہُ وَتَأْتِی الْعِرَاقَ فَیُقَالُ لَمَّا دَخَلَتْ فِی الإِسْلاَمِ ذَکَرَتْ لِلنَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - خَوْفَہَا مِنِ انْقِطَاعِ مَعَاشِہَا بِالتِّجَارَۃِ مِنَ الشَّامِ وَالْعِرَاقِ إِذَا فَارَقَتِ الْکُفْرَ وَدَخَلَتْ فِی الإِسْلاَمِ مَعَ خِلاَفِ مَلِکِ الشَّامِ وَالْعِرَاقِ لأَہْلِ الإِسْلاَمِ فَقَالَ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : إِذَا ہَلَکَ کِسْرَی فَلاَ کِسْرَی بَعْدَہُ ۔ فَلَمْ یَکُنْ بِأَرْضِ الْعِرَاقِ کِسْرَی یَثْبُتُ لَہُ أَمْرٌ بَعْدَہُ وَقَالَ : إِذَا ہَلَکَ قَیْصَرُ فَلاَ قَیْصَرَ بَعْدَہُ ۔ فَلَمْ یَکُنْ بِأَرْضِ الشَّامِ قَیْصَرٌ بَعْدَہُ وَأَجَابَہُمْ عَلَی مَا قَالُوا لَہُ وَکَانَ کَمَا قَالَ لَہُمْ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَقَطَعَ اللَّہُ الأَکَاسِرَۃَ عَنِ الْعِرَاقِ وَفَارِسَ وَقَیْصَرَ وَمَنْ قَامَ بِالأَمْرِ بَعْدَہُ عَنِ الشَّامِ وَقَالَ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فِی کِسْرَی : مُزِّقَ مُلْکُہُ ۔ فَلَمْ یَبْقَ لِلأَکَاسِرَۃِ مُلْکٌ وَقَالَ فِی قَیْصَرَ : ثَبَتَ مُلْکُہُ ۔ فَثَبَتَ لَہُ مُلْکٌ بِبِلاَدِ الرُّومِ إِلَی الْیَوْمِ وَتَنَحَّی مُلْکُہُ عَنِ الشَّامِ وَکُلُّ ہَذَا مُؤْتَفِقٌ یُصَدِّقُ بَعْضُہُ بَعْضًا۔[صحیح۔ مسلم ]
(١٨٦٢٠) حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : رات دن ختم نہ ہوں گے یہاں تک کہ لات وعزیٰ کی عبادت کی جانے لگے گی۔ میں نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میرا گمان تو یہ تھا کہ جب اللہ رب العزت نے یہ آیت نازل فرمائی : { ھُوَ الَّذِیْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْھُدٰی وَ دِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْھِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ } [التوبۃ ٣٣] وہ ذات جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق دے کر مبعوث کیا۔ تاکہ وہ اسے تمام ادیان پر غالب کر دے گا بیشک یہ مکمل ہے۔ آپ نے فرمایا کہ عنقریب یہ ہوگا جو اللہ چاہے گا۔ پھر اللہ رب العزت ایک پاکیزہ ہوا بھیجیں گے تو جس شخص کے دل میں زرہ برابر بھی ایمان ہوا وہ اس کے ذریعے فوت ہوجائے گا۔ باقی ایسے لوگ رہ جائیں گے جن میں بھلائی نہ ہوگی وہ اپنے آباؤ اجداد کے دین پر واپس چلے جائیں گے۔
امام شافعی (رض) فرماتے ہیں کہ قریشیوں کی بہت ساری معیشت کا تعلق عراق سے تھا۔ جب وہ مسلمان ہوئے تو انھوں نے شام اور عراق سے اپنی تجارت کے ختم ہوجانے کا حوف ظاہر کیا۔ کیونکہ شام اور عراق کے لوگ ابھی تک اسلام میں داخل نہیں ہوئے تھے تو آپ نے فرمایا : جب کسریٰ ہلاک ہوگیا تو اس کے بعد کوئی کسریٰ نہیں۔ کیونکہ عراق کی سرزمین پر اس کے بعد کسریٰ کا حکم نہیں چلے گا اور فرمایا : قیصر ہلاک ہوگیا تو اس کے بعد کوئی قیصر نہیں۔ یعنی شام کی سرزمین پر اس کے بعد کوئی قیصر نہیں۔ جب لوگوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا کلمہ پڑھ لیا تو اللہ نے عراق وفارس سے کسریٰ کا سلسلہ ختم کردیا اور شام سے قیصر کا خاتمہ فرما دیا اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کسریٰ کے بارے میں فرمایا تھا کہ اس کی بادشاہت ٹکڑے ٹکڑے ہوجائے گی اور کسریٰ کی بادشاہت باقی نہ رہے گی اور قیصر کے بارے میں فرمایا تھا کہ اس کی بادشاہت باقی رہے گی۔