hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 18633

.

سنن البيهقي

18633
Sunan Al Bayhaqi
(١٨٦٢٧) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ ہُوَ الأَصَمُّ أَنْبَأَنَا الرَّبِیعُ قَالَ قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ : وَہَذَا مِثْلُ الْحَدِیثَیْنِ قَبْلَہُ فِی الْمُشْرِکِینَ مُطْلَقًا وَإِنَّمَا یُرَادُ بِہِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ مُشْرِکُو أَہْلِ الأَوْثَانِ وَلَمْ یَکُنْ بِحَضْرَۃِ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَلاَ قُرْبِہِ أَحَدٌ مِنْ مُشْرِکِی أَہْلِ الْکِتَابِ إِلاَّ یَہُودُ بِالْمَدِینَۃِ وَکَانُوا حُلَفَائَ الأَنْصَارِ وَلَمْ تَکُنِ الأَنْصَارُ اسْتَجْمَعَتْ أَوَّلَ مَا قَدِمَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - إِسْلاَمًا فَوَادَعَتْ یَہُودُ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَلَمْ تَخْرُجْ إِلَی شَیْئٍ مِنْ عَدَاوَتِہِ بِقَوْلٍ یَظْہَرُ وَلاَ فِعْلٍ حَتَّی کَانَتْ وَقْعَۃُ بَدْرٍ فَتَکَلَّمَ بَعْضُہَا بِعَدَاوَتِہِ وَالتَّحْرِیضِ عَلَیْہِ فَقَتَلَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فِیہِمْ وَلَمْ یَکُنْ بِالْحِجَازِ عَلِمْتُہُ إِلاَّ یَہُودِیٌّ أَوْ نَصَارَی قَلِیلٌ بِنَجْرَانَ وَکَانَتِ الْمَجُوسُ بِہَجَرَ وَبِلاَدِ الْبَرْبَرِ وَفَارِسَ نَائِینَ عَنِ الْحِجَازِ دُونَہُمْ مُشْرِکُونَ أَہْلُ الأَوْثَانِ کَثِیرٌ۔ [صحیح ]
(١٨٦٢٧) امام شافعی (رض) فرماتے ہیں کہ ان جیسی دو احادیث مطلق مشرکین کے بارے میں ہیں۔ حالانکہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی موجودگی میں اور آپ کے قریبی زمانہ میں اہل کتاب کے اندر ان دو مشرکوں میں سے کوئی بھی نہ تھا سوائے مدینہ کے یہودیوں کے جو انصار کے حلیف تھے اور انصار ابتدائی طور پر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے آنے کے بعد اسلام میں داخل نہ ہوئے تھے اور واقعہ بدر تک یہود کی دشمنی قول اور فعل کے ذریعے ظاہر نہ ہوئی۔ لیکن اس موقع پر انھوں نے ایک دوسرے سے دشمنی اور آپ کے خلاف ابھارنے کی باتیں کیں تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے لڑائی کی۔ حجاز میں میرے علم کے مطابق یہودی یا نجران کے تھوڑے سے عیسائی تھے اور ھجر، بربر کے شہر اور فارس جو حجاز سے دور تھے وہاں بتوں کے پجاری مشرکین بہت زیادہ پائے جاتے تھے۔