(١٨٦٣٢) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مِہْرَانَ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ مُوسَی أَنْبَأَنَا سُفْیَانُ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ عَفَّانَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ الثَّوْرِیُّ عَنْ عَلْقَمَۃَ بْنِ مَرْثَدٍ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ بُرَیْدَۃَ عَنْ أَبِیہِ قَالَ : کَانَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - إِذَا بَعَثَ أَمِیرًا عَلَی جَیْشٍ أَوْصَاہُ وَذَکَرَ الْحَدِیثَ زَادَ فِیہِ : وإِذَا حَاصَرْتَ أَہْلَ حِصْنٍ فَأَرَادُوکَ عَلَی أَنْ تَجْعَلَ لَہُمْ ذِمَّۃَ اللَّہِ وَذِمَّۃَ نَبِیِّکَ فَلاَ تَجْعَلْ لَہُمْ ذِمَّۃَ اللَّہِ وَذِمَّۃَ نَبِیِّکَ وَلَکِنِ اجْعَلْ لَہُمْ ذِمَّتَکَ وَذِمَّۃَ آبَائِکَ وَذِمَمَ أَصْحَابِکَ فَإِنَّکُمْ أَنْ تُخْفِرُوا ذِمَمَکُمْ وَذِمَمَ آبَائِکُمْ أَہْوَنُ عَلَیْکُمْ مِنْ أَنْ تُخْفِرُوا ذِمَّۃَ اللَّہِ وَذِمَّۃَ رَسُولِہِ ۔
وَلَمْ یَذْکُرْ إِسْنَادَ حَدِیثِ مُقَاتِلٍ
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ عَنْ وَکِیعٍ دُونَ إِسْنَادِ مُقَاتِلٍ وَرَوَاہُ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ عَنْ یَحْیَی بْنِ آدَمَ وَذَکَرَ فِیہِ إِسْنَادَ مُقَاتِلٍ ۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ ]
(١٨٦٣٢) حضرت سلیمان بن بریدہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب کسی لشکر کا امیر بنا کر روانہ فرماتے تو چند وصتیں فرماتے۔ اس میں زیادتی ہے کہ جب تم کسی قلعہ کا محاصرہ کرو۔ اور وہ تم سے اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ذمہ کا تقاضا کریں تو انھیں اللہ اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ذمہ کے علاوہ اپنا اور اپنے رفقاء کا ذمہ دو ۔ کیونکہ اگر تم اپنے اور اپنے آباء اور رفقاء کا ذمہ توڑ ڈالو گے تو یہ اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مقابلہ میں معمولی ہے۔