(١٨٦٤٢) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِی یَزِیدُ بْنُ رُومَانَ وَعَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَبِی بَکْرٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - بَعَثَ خَالِدَ بْنَ الْوَلِیدِ إِلَی أُکَیْدِرِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِکِ رَجُلٌ مِنْ کِنْدَۃَ کَانَ مَلِکًا عَلَی دُومَۃَ وَکَانَ نَصْرَانِیًّا فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - لِخَالِدٍ : إِنَّکَ سَتَجِدُہُ یَصِیدُ الْبَقَرَ ۔ فَخَرَجَ خَالِدٌ حَتَّی إِذَا کَانَ مِنْ حِصْنِہِ مَنْظَرَ الْعَیْنِ وَفِی لَیْلَۃٍ مُقْمِرَۃٍ صَافِیَۃٍ وَہُوَ عَلَی سَطْحٍ وَمَعَہُ امْرَأَتُہُ فَأَتَتِ الْبَقَرُ تَحُکُّ بِقُرُونِہَا بَابَ الْقَصْرِ فَقَالَتْ لَہُ امْرَأَتُہُ : ہَلْ رَأَیْتَ مِثْلَ ہَذَا قَطُّ ؟ قَالَ : لاَ وَاللَّہِ قَالَتْ : فَمَنْ یَتْرُکُ مِثْلَ ہَذَا قَالَ : لاَ أَحَدٌ فَنَزَلَ فَأَمَرَ بِفَرَسِہِ فَأُسْرِجَ وَرَکِبَ مَعَہُ نَفَرٌ مِنْ أَہْلِ بَیْتِہِ فِیہِمْ أَخٌ لَہُ یُقَالُ لَہُ حَسَّانُ فَخَرَجُوا مَعَہُ بِمَطَارِدِہِمْ فَتَلَقَّتْہُمْ خَیْلُ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَأَخَذَتْہُ وَقَتَلُوا أَخَاہُ حَسَّانَ وَکَانَ عَلَیْہِ قُبَائُ دِیبَاجٍ مُخَوَّصٌ بِالذَّہَبِ فَاسْتَلَبَہُ إِیَّاہُ خَالِدُ بْنُ الْوَلِیدِ فَبَعَثَ بِہِ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَبْلَ قُدُومِہِ عَلَیْہِ ثُمَّ إِنَّ خَالِدًا قَدِمَ بِالأُکَیْدِرِ عَلَی رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَحَقَنَ لَہُ دَمَہُ وَصَالَحَہُ عَلَی الْجِزْیَۃِ وَخَلَّی سَبِیلَہُ فَرَجَعَ إِلَی قَرْیَتِہِ ۔
قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ : وَأَخَذَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - الْجِزْیَۃَ مِنْ أَہْلِ ذِمَّۃِ الْیَمَنِ وَعَامَّتُہُمْ عَرَبٌ وَمِنْ أَہْلِ نَجْرَانَ وَفِیہِمْ عَرَبٌ۔ [ضعیف ]
(١٨٦٤٢) حضرت عبداللہ بن ابی بکر فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خالد بن ولید کو اکیدر بن عبد الملک جو رومہ کا عیسائی بادشاہ اور کندہ کا ایک فرد تھا کی جانب روانہ کیا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خالد بن ولید سے فرمایا کہ تو اس کو گائے کا شکار کرتے ہوئے پائے گا۔ جب خالد اس کے قلعہ پر پہنچے تو چاندنی رات میں وہ اپنی بیوی کے ساتھ چھت پر موجود تھا گائے نے آ کر محل کے دروازے کے ساتھ خارش کرنا شروع کردی تو اس کی بیوی نے کہا : کیا آپ نے اس جیسا کبھی دیکھا ہے ؟ اس نے کہا : نہیں۔ اس کی بیوی نے کہا : اس جیسے کو کون چھوڑے گا ؟ اس نے کہا : کوئی بھی نہیں تو وہ نیچے اترا اور گھوڑے لانے کا حکم دیا۔ پھر وہ اپنے گھر والوں کے درمیان جس میں اس کا بھائی حسان بھی تھا نکلا۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ایک گروہ نے انھیں پکڑ لیا اور اس کے بھائی حسان کو قتل کردیا۔ اس پر ریشمی قباء تھی جس پر سونے کا کام ہوا تھا تو خالد بن ولید نے آپ کے پاس آنے سے پہلے اسے روانہ کردیا۔ پھر خالد بن ولید اکیدر کو لیکر آپ کے پاس آیا۔ آپ نے خون معاف کردیا اور جزیہ پر صلح کرلی اور اسے واپس جانے کی اجازت دے دی۔
شافعی (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یمن کے ذمیوں اور عام عرب سے جزیہ وصول کیا اور اہل نجران میں بھی عرب تھے۔