(١٨٦٤٧) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ فِی قِصَّۃِ وُرُودِ خَالِدِ بْنِ الْوَلِیدِ مِنْ جِہَۃِ أَبِی بَکْرٍ الصِّدِّیقِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ الْحِیرَۃَ وَمُحَاوَرَۃِ ہَانِئِ بْنِ قَبِیصَۃَ إِیَّاہُ فَقَالَ خَالِدٌ : أَدْعُوکُمْ إِلَی الإِسْلاَمِ وَإِلَی أَنْ تَشْہَدُوا أَنَّہُ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ وَحْدَہُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُولُہُ وَتُقِیمُوا الصَّلاَۃَ وَتُؤْتُوا الزَّکَاۃَ وَتُقِرُّوا بِأَحْکَامِ الْمُسْلِمِینَ عَلَی أَنَّ لَکُمْ مِثْلَ مَا لَہُمْ وَعَلَیْکُمْ مِثْلَ مَا عَلَیْہِمْ فَقَالَ ہَانِئٌ : فَإِنْ لَمْ أَشَأْ ذَلِکَ فَمَہْ قَالَ : فَإِنْ أَبَیْتُمْ ذَلِکَ أَدَّیْتُمُ الْجِزْیَۃَ عَنْ یَدٍ قَالَ فَإِنْ أَبَیْنَا ذَلِکَ قَالَ : فَإِنْ أَبَیْتُمْ ذَلِکَ وَطِئْتُکُمْ بِقَوْمٍ الْمَوْتُ أَحَبُّ إِلَیْہِمْ مِنَ الْحَیَاۃِ إِلَیْکُمْ فَقَالَ ہَانِئٌ : أَجِّلْنَا لَیْلَتَنَا ہَذِہِ فَنَنْظُرَ فِی أَمْرِنَا قَالَ : قَدْ فَعَلْتُ فَلَمَّا أَصْبَحَ الْقَوْمُ غَدَا ہَانِئٌ فَقَالَ : إِنَّہُ قَدِ اجْتَمَعَ أَمْرُنَا عَلَی أَنْ نُؤَدِّیَ الْجِزْیَۃَ فَہَلُمَّ فَلأُصَالِحَکَ فَقَالَ لَہُ خَالِدٌ : کَیْفَ وَأَنْتُمْ قَوْمٌ عَرَبٌ تَکُونُ الْجِزْیَۃُ وَالذُّلُّ أَحَبَّ إِلَیْکُمْ مِنَ الْقِتَالِ وَالْعِزِّ فَقَالَ : نَظَرْنَا فِیمَا یُقْتَلُ مِنَّا فَإِذَا ہُمْ لاَ یَرْجِعُونَ وَنَظَرْنَا إِلَی مَا یُؤْخَذُ مِنَّا مِنَ الْمَالِ فَقَلَّمَا نَلْبَثُ حَتَّی یُخْلِفَہُ اللَّہُ لَنَا قَالَ : فَصَالَحَہُمْ خَالِدٌ عَلَی تِسْعِینَ أَلْفًا۔ [ضعیف ]
(١٨٦٤٧) ابن اسحاق خالد بن ولید کے ابوبکر صدیق (رض) کی جانب سے حیرہشہر میں ورود کے قصہ کے بارے میں بیان کرتے ہیں اور محاورہ ہانی بن قبیصہ بیان کرتے ہیں کہ خالد بن ولید نے فرمایا : میں تم کو اسلام کی دعوت دیتا ہوں اور اس بات کی کہ تم گواہی دو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد بندے اور رسول ہیں اور تم قائم کرو، زکوۃ ادا کرو اور تم پر مسلمانوں والے احکام جاری ہوں گے اور تم پر وہ ذمے داریاں عائد ہوں گی جو ان پر ہیں۔ ہانی نے کہا : اگر ہم اس کو بھی نہ مانیں۔ فرمایا : اگر تم اس بات کو بھی نہیں مانتے تو تم جزیہ ادا کرو۔ اس نے کہا : اگر میں یہ نہ چاہوں۔ فرمایا اگر تم اس بات کو نہیں مانتے تو پھر تمہارا واسطہ ایسی قوم سے پڑے گا جنہیں موت زندگی سے زیادہ محبوب ہے جیسے تمہیں زندگی محبوب ہے۔ ہانی نے کہا : آپ ہمیں ایک رات مہلت دیں۔ ہم اپنے معاملے میں سوچ وبچار کرلیں۔ کہنے لگے : میں آپ کو مہلت دیتا ہوں ۔ جب لوگوں نے صبح کی تو ہانی نے آ کر کہا کہ ہم اس پر متفق ہوئے ہیں کہ ہم جزیہ ادا کیا کریں گے۔ آؤ میں آپ سے صلح کرنا چاہتا ہوں۔ خالد نے کہا : تم عرب لوگ ہو جزیہ اور ذلت کو لڑائی اور عزت پر ترجیح دے رہے ہو۔ اس نے کہا : ہم نے غور وفکر کیا۔ جو ہمارے قتل کیے جائیں گے وہ کبھی واپس نہ لوٹیں گے اور جو ہم سے مال لیا جائے گا تھوڑی مدت کے بعد اللہ رب العزت اور دے دیں گے تو حضرت خالد نے نوے ہزار پر صلح کی۔