(١٨٦٦١) قَالَ وَحَدَّثَنَا أَبُو رَجَائٍ الْحَنَفِیُّ قَالَ : کَتَبَ حُذَیْفَۃُ إِلَی عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا : أَنَّہُ أُصِیبَ مِنَ الْمُہَاجِرِینَ فُلاَنٌ وَفُلاَنٌ وَفِیمَنْ لاَ یُعْرَفُ أَکْثَرُ فَلَمَّا قَرَأَ الْکِتَابَ رَفَعَ صَوْتَہُ ثُمَّ بَکَی وَبَکَی فَقَالَ : بَلِ اللَّہُ یَعْرِفُہُمْ ثَلاَثًا۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ مُخْتَصَرًا عَنِ الْفَضْلِ بْنُ یَعْقُوبَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ جَعْفَرٍ الرَّقِّیِّ ۔
وَفِیہِ دَلاَلَۃٌ عَلَی أَخْذِ الْجِزْیَۃِ مِنَ الْمَجُوسِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ فَقَدْ کَانَ کِسْرَی وَأَصْحَابُہُ مَجُوسًا۔
[صحیح۔ تقدم قبلہ ]
(١٨٦٦١) ابو رجاء حنفی کہتے ہیں کہ حضرت حذیفہ نے عمر بن خطاب (رض) کو خط لکھا کہ فلاں، فلاں مھاجر شہید ہوگئے اور ان کے بارے لکھا جن کی پہچان نہ ہوسکی۔ جب حضرت عمر (رض) نے خط کو پڑھا تو روئے اور فرمایا : اللہ ان کو جانتے ہیں تین مرتبہ فرمایا۔ (ب) اس میں جزیہ لینے پر دلالت ہے کیونکہ کسریٰ اور ساتھی مجوسی تھے۔