(١٨٦٧٤) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَنْبَأَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِی عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَبِی بَکْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ قَالَ : ہَذَا کِتَابُ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - عِنْدَنَا الَّذِی کَتَبَہُ لِعَمْرِو بْنِ حَزْمٍ حِینَ بَعَثَہُ إِلَی الْیَمَنِ فَذَکَرَہُ وَفِی آخِرِہِ : وَإِنَّہُ مَنْ أَسْلَمَ مِنْ یَہُودِیٍّ أَوْ نَصْرَانِیٍّ إِسْلاَمًا خَالِصًا مِنْ نَفْسِہِ فَدَانَ دِینَ الإِسْلاَمِ فَإِنَّہُ مِنَ الْمُؤْمِنِینِ لَہُ مَا لَہُمْ وَعَلَیْہِ مَا عَلَیْہِمْ وَمَنْ کَانَ عَلَی نَصْرَانِیَّتِہِ أَوْ یَہُودِیَّتِہِ فَإِنَّہُ لاَ یُفْتَنُ عَنْہَا وَعَلَی کُلِّ حَالِمٍ ذَکَرٍ أَوْ أُنْثَی حُرٍّ أَوْ عَبْدٍ دِینَارٌ وَافٍ أَوْ عِوَضُہُ مِنَ الثِّیَابِ فَمَنْ أَدَّی ذَلِکَ فَإِنَّ لَہُ ذِمَّۃَ اللَّہِ وَذِمَّۃَ رَسُولِہِ وَمَنْ مَنَعَ ذَلِکَ فَإِنَّہُ عَدُوُّ اللَّہِ وَرَسُولِہِ وَالْمُؤْمِنِینَ
ہَذَا مُنْقَطِعٌ وَلَیْسَ فِی الرِّوَایَۃِ الْمَوْصُولَۃِ ۔ [ضعیف ]
(١٨٦٧٤) عبداللہ بن ابی بکر بن محمد بن عمرو بن حزم فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جو خط عمرو بن حزم کو لکھا جس وقت اسے یمن روانہ کیا۔ اس کے آخر میں ہے کہ جو یہودی یا عیسائی دین اسلام کو خالص نیت سے قبول کرے تو اس کے لیے مومنوں والے حقوق ہوں گے اور اس پر وہ مہ داریاں عائد ہونگی جو مسلمانوں پر ہیں اور جو عسائیت یا یہودیت پر رہے اس کو آزمائش میں مبتلا نہ کیا جائے گا اور ہر بالغ مذکر ومؤنث یا آزاد و غلام پر ایک دینار یا اس کے عوض کپڑا ہے۔ جس نے یہ ادا کردیا اس کے لیے اللہ ورسول کا ذمہ ہے اور جس نے ادا نہ کیا وہ اللہ ورسول اور مومنوں کا دشمن ہے۔