(١٨٦٨٩) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو الْحَسَنِ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبْدُوسٍ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ الدَّارِمِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِیدِ الطَّیَالِسِیُّ قَالَ لَیْثُ بْنُ سَعْدٍ حَدَّثَنَا عَنْ سَعِیدِ بْنِ أَبِی سَعِیدٍ الْمَقْبُرِیِّ عَنْ أَبِی شُرَیْحٍ الْعَدَوِیِّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ سَمِعَتْ أُذُنَایَ وَأَبْصَرَتْ عَیْنَایَ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَہُوَ یَقُولُ : مَنْ کَانَ یُؤْمِنُ بِاللَّہِ وَالْیَوْمِ الآخِرِ فَلْیُکْرِمْ جَارَہُ وَمَنْ کَانَ یُؤْمِنُ بِاللَّہِ وَالْیَوْمِ الآخِرِ فَلْیُکْرِمْ ضَیْفَہُ جَائِزَتَہُ ۔ قِیلَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ وَمَا جَائِزَتُہُ ؟ قَالَ : یَوْمٌ وَلَیْلَۃٌ وَالضِّیَافَۃُ ثَلاَثَۃُ أَیَّامٍ فَمَا کَانَ أَکْثَرَ مِنْ ذَلِکَ فَہُوَ صَدَقَۃٌ وَلاَ یَثْوِی عِنْدَہُ حَتَّی یُحْرِجَہُ وَمَنْ کَانَ یُؤْمِنُ بِاللَّہِ وَالْیَوْمِ الآخِرِ فَلْیَقُلْ خَیْرًا أَوْ لِیَصْمُتْ ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الْوَلِیدِ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ قُتَیْبَۃَ عَنِ اللَّیْثِ بْنِ سَعْدٍ ۔[صحیح۔ متفق علیہ ]
(١٨٦٨٩) ابو شریح عدوی فرماتے ہیں کہ میرے کانوں نے سنا اور میری آنکھوں نے دیکھا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنے ہمسائے کی عزت کرے اور جس کا اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان ہو وہ اپنے مہمان کی ضیافت کے ذریعے تعظیم کرے۔ کہا گیا : اس کی ضیافت کیا ہے ؟ فرمایا : ایک دن و رات اور ضیافت تین دن تک ہے۔ اس سے زیادہ صدقہ ہے، اس سے زیادہ مہمان بھی نہ ٹھہرے کہ اسے تکلیف ہو اور جو اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتا ہو وہ اچھے کلمات کہے یا خاموش ہوجائے۔