(١٨٦٩٧) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ الْحَارِثِ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ عَیَّاشٍ حَدَّثَنِی الأَحْوَصُ بْنُ حَکِیمٍ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی مَرْیَمَ عَنْ حَکِیمِ بْنِ عُمَیْرٍ قَالَ : کَتَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ إِلَی أُمَرَائِ الأَجْنَادِ فَذَکَرَہُ قَالَ : وَأَیُّمَا رُفْقَۃٍ مِنَ الْمُہَاجِرِینَ آوَاہُمُ اللَّیْلُ إِلَی قَرْیَۃٍ مِنْ قُرَی الْمُعَاہِدِینَ مِنْ مُسَافِرِینَ فَلَمْ یَأْتُوہُمْ بِالْقِرَی فَقَدْ بَرِئَتْ مِنْہُمُ الذِّمَّۃُ ۔ [حسن لغیرہ ]
(١٨٦٩٧) حکیم بن عمیر فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے لشکروں کے امراء کو خط لکھا کہ مجاہدین کے کس گروہ کو معاھدین کے کسی علاقہ میں رات ہوجائے حالت سفر میں وہ ان کی ضیافت نہ کریں۔ تو ان سے معاہدہ ختم، ذمہ ختم۔