(١٨٧٢٣) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ عُرْوَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ : دَخَلَ رَہْطٌ مِنَ الْیَہُودِ عَلَی رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَقَالُوا السَّامُ عَلَیْکُمْ فَقَالَتْ عَائِشَۃُ فَفَہِمْتُہَا فَقُلْتُ : عَلَیْکُمُ السَّامُ وَاللَّعْنَۃُ قَالَتْ فَقَالَ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : مَہْلاً یَا عَائِشَۃُ إِنَّ اللَّہَ یُحِبُّ الرِّفْقَ فِی الأَمْرِ کُلِّہِ ۔ قَالَتْ فَقُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أَلَمْ تَسْمَعْ مَا قَالُوا قَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : فَقَدْ قُلْتُ عَلَیْکُمْ ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ بْنِ حُمَیْدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ وَأَخْرجَہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ مَعْمَرٍ ۔
قَالَ أَصْحَابُنَا وَہَذِہِ السُّنَنُ لاَ یُمْکِنُ اسْتِعْمَالُہَا إِلاَّ بَعْدَ الْمَعْرِفَۃِ بِہِمْ وَلَیْسَ کُلُّ أَحَدٍ یَعْرِفُہُمْ فَلاَ بُدَّ مِنْ غِیَارٍ یَتَمَیَّزُونَ بِہِ عَنِ الْمُسْلِمِینَ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
(١٨٧٢٣) حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس یہودیوں کا ایک گروہ آیا۔ انھوں نے کہا : تم پر موت پڑے۔ حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں : میں نے ان کی بات کو سمجھ کر کہا : تم پر موت پڑے اور لعنت ہو۔ حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے عائشہ (رض) ! ٹھہر جاؤ۔ کیونکہ اللہ رب العزت تمام معاملات میں نرمی کو پسند کرتا ہے۔ کہتی ہیں : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ نے ان کی بات نہیں سنی ؟ آپ نے فرمایا : میں نے جواب میں کہہ دیا تمہارے اوپر موت پڑے۔
نوٹ : کسی ایسی علامت کا ہونا ضروری ہے جس کی وجہ سے ان کی مسلمانوں سے تمیز ہو سکے۔