(١٨٧٧٠) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ حَدَّثَنَا یَحْیَی حَدَّثَنَا قَیْسُ عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ عَنِ الْحَسَنِ قَالَ : کَتَبَ أَبُو مُوسَی إِلَی عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا : إِنَّ تُجَّارَ الْمُسْلِمِینَ إِذَا دَخَلُوا دَارَ الْحَرْبِ أَخَذُوا مِنْہُمُ الْعُشْرَ قَالَ فَکَتَبَ إِلَیْہِ عُمَرُ : خُذْ مِنْہُمْ إِذَا دَخَلُوا إِلَیْنَا مِثْلَ ذَلِکَ الْعُشْرَ وَخُذُوا مِنَ تُجَّارِ أَہْلِ الذِّمَّۃِ نِصْفَ الْعُشْرِ وَمِنَ الْمُسْلِمِینَ مِنْ مِائَتَیْنِ خَمْسَۃً وَمَا زَادَ فَمِنْ کُلِّ أَرْبَعِینَ دِرْہَمًا دِرْہَمًا۔
[صحیح ]
(١٨٧٧٠) حضرت حسن فرماتے ہیں کہ ابو موسیٰ نے حضرت عمر (رض) کو خط لکھا کہ مسلمان تاجر جب دار الحرب میں جاتے ہیں تو ان سے عشر وصول کیا جاتا ہے تو حضرت عمر (رض) نے جواب دیا : جب ان کے لوگ آئیں تم ان سے عشر وصول کرو اور ذمی تاجروں سے بیسواں حصہ وصول کرو اور مسلمانوں سے بیسواں ۔ درہم پر پانچ درہم وصول کیے جائیں اور جتنا زیادہ ہو ہر چالیس درہمپر ایک درہم وصول کریں۔