(١٨٧٧٧) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ کَثِیرٍ أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنْ حَارِثَۃَ بْنِ مُضَرِّبٍ أَنَّہُ أَتَی عَبْدَ اللَّہِ بْنَ مَسْعُودٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَالَ : مَا بَیْنِی وَبَیْنَ أَحَدٍ مِنَ الْعَرَبِ حِنَۃٌ وَإِنِّی مَرَرْتُ بِمَسْجِدٍ لِبَنِی حَنِیفَۃَ فَإِذَا ہُمْ یُؤْمِنُونَ بِمُسَیْلِمَۃَ فَأَرْسَلَ إِلَیْہِمْ عَبْدُ اللَّہِ فَجِیئَ بِہِمْ فَاسْتَتَابَہُمْ غَیْرَ ابْنِ النَّوَّاحَۃِ قَالَ لَہُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَقُولُ : لَوْلاَ أَنَّکَ رَسُولٌ لَضَرَبْتُ عُنُقَکَ ۔ فَأَنْتَ الْیَوْمَ لَسْتَ بِرَسُولٍ فَأَمَرَ قَرَظَۃَ بْنَ کَعْبٍ فَضَرَبَ عُنُقَہُ فِی السُّوقِ ثُمَّ قَالَ : مَنْ أَرَادَ أَنْ یَنْظُرَ إِلَی ابْنِ النَّوَّاحَۃِ قَتِیلاً بِالسُّوقِ ۔ [ضعیف۔ تقدم قبلہ ١٦٨٨٦]
(١٨٧٧٧) حارثہ بن مضرب حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کے پاس آئے تو فرماتے ہیں کہ میرے اور عرب کے درمیان کوئی دوستی نہ تھی۔ جب میرا گذر بنو حنیفہ کی مسجد کے قریب سے ہو، ا وہ مسیلمہ پر ایمان لا چکے تھے تو حضرت عبداللہ نے ان کو بلایا اور توبہ طلب کی۔ صرف ابن نواحہ نے توبہ نہ کی۔ حضرت عبداللہ اس سے کہنے لگے : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا ہے کہ قاصد کو قتل نہ کیا جائے، وگرنہ تیری گردن اتار دیتا۔ لیکن آج آپ قاصد بن کر نہیں آئے تو قرظہ بن کعب کو حکم دیا۔ انھوں نے بازار میں گردن اتار دی۔ پھر فرمایا : جو ابن نواحہ کو بازار میں مقتول دیکھنا چاہے دیکھ سکتا ہے۔