(١٨٧٨٣) أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنِی الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ سَعِیدٍ الْمَقْبُرِیِّ عَنْ أَبِی شُرَیْحٍ الْعَدَوِیِّ أَنَّہُ قَالَ لِعَمْرِو بْنِ سَعِیدٍ وَہُوَ یَبْعَثُ الْبُعُوثَ إِلَی مَکَّۃَ : ائْذَنْ لِی أَیُّہَا الأَمِیرُ أُحَدِّثْکَ قَوْلاً قَامَ بِہِ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - الْغَدَ مِنْ یَوْمِ الْفَتْحِ سَمِعَتْہُ أُذُنَایَ وَوَعَاہُ قَلْبِی وَأَبْصَرَتْہُ عَیْنَایَ حِینَ تَکَلَّمَ بِہِ حَمِدَ اللَّہَ وَأَثْنَی عَلَیْہِ ثُمَّ قَالَ : إِنَّ مَکَّۃَ حَرَّمَہَا اللَّہُ وَلَمْ یُحَرِّمْہَا النَّاسُ فَلاَ یَحِلُّ لاِمْرِئٍ یُؤْمِنُ بِاللَّہِ وَالْیَوْمِ الآخِرِ أَنْ یَسْفِکَ فِیہَا دَمًا وَلاَ یَعْضِدَ بِہَا شَجَرَۃً فَإِنْ أَحَدٌ تَرَخَّصَ لِقِتَالِ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَقُولُوا إِنَّ اللَّہَ قَدْ أَذِنَ لِرَسُولِہِ وَلَمْ یَأْذَنْ لَکُمْ وَإِنَّمَا أَذِنَ لِی سَاعَۃً مِنْ نَہَارٍ وَقَدْ عَادَتْ حُرْمَتُہَا الْیَوْمَ کَحُرْمَتِہَا بِالأَمْسِ وَلْیُبَلِّغِ الشَّاہِدُ الْغَائِبَ ۔ فَقِیلَ لأَبِی شُرَیْحٍ مَا قَالَ لَکَ عَمْرٌو فَقَالَ قَالَ عَمْرٌو : أَنَا أَعْلَمُ بِذَلِکَ مِنْکَ یَا أَبَا شُرَیْحٍ إِنَّ الْحَرَمَ لاَ یُعِیذُ عَاصِیًا وَلاَ فَارًّا بِدَمٍ وَلاَ فَارًّا بِخَرْبَۃٍ ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ وَمُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ قُتَیْبَۃَ بْنِ سَعِیدٍ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
(١٨٧٨٣) ابو شریح عدوی نے عمرو بن سعید سے کہا جو مکہ کی جانب وفد بھیجتے تھے کہ اے امیر المؤمنین ! نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جو فتح مکہ کے دوسرے دن بات فرمائی تھی، وہ مجھے کہنے کی اجازت دیں۔ میرے دونوں کانوں نے سنا، دل نے یاد رکھا اور میری دونوں آنکھوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بات کرتے ہوتے دیکھا۔ آپ نے حمد وثنا کے بعد فرمایا : مکہ کو اللہ نے حرم قرار دیا ہے لوگوں نے نہیں۔ جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے، اس کے لیے حرم میں خون بہانا جائز نہیں ہے۔ اس کے درخت نہ کاٹے جائیں۔ اگر کوئی کہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو قتال کی اجازت ملی تھی تو تم کہہ دینا اللہ نے اپنے رسول کو اجازت دی تھی، تمہیں نہیں اور آپ کو صرف دن کی ایک گھڑی اجازت دی گئی۔ اب اس کی حرمت ویسے ہوگئی جیسے پہلے تھی اور چاہیے کہ حاضر غائب تک بات کو پہنچا دے۔ ابو شریح سے کہا گیا کہ عمرو نے آپ سے کیا کہا۔ راوی کہتے ہیں : عمرو نے ابو شریح سے کہا : میں تجھ سے اس بات کو زیادہ جانتا ہوں ، حرم کسی گناہ گار قاتل اور فساد کرنے والے کو پناہ نہیں دیتا۔