(١٨٧٨٥) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بُطَّۃَ الأَصْبَہَانِیُّ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الْجَہَمِ حَدَّثَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ الْفَرَجِ حَدَّثَنَا الْوَاقِدِیُّ حَدَّثَنِی إِبْرَاہِیمُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ أَبِیہِ قَالَ الْوَاقِدِیُّ وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَبِی عُبَیْدَۃَ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ أُمَیَّۃَ الضَّمْرِیِّ
(ح) قَالَ وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ أَبِی عَوْنٍ وَزَادَ بَعْضُہُمْ عَلَی بَعْضٍ فَذَکَرَ قِصَّۃً فِی بَعَثِ أَبِی سُفْیَانَ مَنْ یَقْتُلُ مُحَمَّدًا - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - غِیلَۃً وَإِنَّ اللَّہَ تَعَالَی أَطْلَعَ عَلَیْہِ نَبِیَّہُ وَأَسْلَمَ الرَّجُلُ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - لِعَمْرِو بْنِ أُمَیَّۃَ الضَّمْرِیِّ وَسَلَمَۃَ بْنِ أَسْلَمَ بْنِ حَرِیشٍ : اخْرُجَا حَتَّی تَأْتِیَا أَبَا سُفْیَانَ بْنَ حَرْبٍ فَإِنْ أَصَبْتُمَا مِنْہُ غِرَّۃً فَاقْتُلاَہُ ۔
ثُمَّ ذَکَرَ قِصَّۃً فِی رُؤْیَۃِ مُعَاوِیَۃَ عَمْرًا وَإِخْبَارِہِ أَبَاہُ بِذَلِکَ وَأَنَّ عَمْرَو بْنَ أُمَیَّۃَ وَسَلَمَۃَ بْنَ أَسْلَمَ أَسْنَدَا فِی الْجَبَلِ وَتَغَیَّبا فِی غَارٍ ثُمَّ إِنَّ عَمْرَو بْنَ أُمَیَّۃَ خَرَجَ فَقَتَلَ عُبَیْدَ اللَّہِ بْنَ مَالِکٍ ابْنَ أَخِی طَلْحَۃَ بْنِ عُبَیْدِ اللَّہِ وَجَائَ إِلَی خُبَیْبِ بْنِ عَدِیٍّ وَہُوَ مَصْلُوبٌ فَأَنْزَلَہُ وَأَہَالَ عَلَیْہِ التُّرَابَ ثُمَّ ذَکَرَ رُجُوعَہُمَا مُنْفَرِدَیْنِ إِلَی الْمَدِینَۃِ ۔ [ضعیف ]
(١٨٧٨٥) عبد الوحد بن ابی عون فرماتے ہیں کہ بعض نے کچھ الفاظ زائد بیان کیے ہیں اور ابو سفیان کا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دھوکا سے قتل کرنے کا قصہ ذکر کیا ہے۔ اللہ رب العزت نے اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اطلاع دے دی تو قتل کے ارادے سے آنے والا شخص مسلمان ہوگیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عمرو بن امیہ فری اور سلمہ بن اسلم بن حریش کو فرمایا : تم ابو سفیان بن حرب کے پاس جا ؤ، اگر تم اسے غافل پاؤ تو قتل کردینا۔
(ب) پھر انھوں نے معاویہ کے عمرو کو دیکھ لینے اور اپنے باپ کو اس کی خبر دینے کا قصہ ذکر کیا ہے کہ عمرو بن امیہ اور سلمہ بن اسلم پہاڑ پر چڑھ کر غار میں چھپ گئے تو عمرو بن امیہ نے غار سے نکل کر عبید اللہ بن مالک کو جو طلحہ بن عبید اللہ کے بھتیجے تھے قتل کردیا۔ پھر خبیب بن عدی کے پاس آئے، انھیں سولی سے اتار کر ان پر مٹی ڈال دی، پھر وہ دونوں اکیلے اکیلے مدینہ کی طرف لوٹ آئے۔