(١٨٧٨٧) أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یَحْیَی بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ عَنْ أَبِیہِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ : مَنْ قَتَلَ أَوْ سَرَقَ فِی الْحِلِّ ثُمَّ دَخَلَ الْحَرَمَ فَإِنَّہُ لاَ یُجَالَسُ وَلاَ یُکَلَّمُ وَلاَ یُؤْوَی وَیُنَاشَدُ حَتَّی یَخْرُجَ فَإِذَا خَرَجَ أُقِیمَ عَلَیْہِ مَا أَصَابَ فَإِنْ قَتَلَ أَوْ سَرَقَ فِی الْحِلِّ ثُمَّ أُدْخِلَ الْحَرَمَ فَأَرَادُوا أَنْ یُقِیمُوا عَلَیْہِ مَا أَصَابَ أَخْرَجُوہُ مِنَ الْحَرَمِ إِلَی الْحِلِّ وَإِنْ قَتَلَ أَوْ سَرَقَ فِی الْحَرَمِ أُقِیمَ عَلَیْہِ فِی الْحَرَمِ ۔
قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ : وَہَذَا رَأْیٌ مِنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا وَقَدْ تَرَکْنَاہُ بِالظَّوَاہِرِ الَّتِی وَرَدَتْ فِی إِقَامَۃِ الْحُدُودِ دُونَ تَخْصِیصِ الْحَرَمِ بِتَرْکِہَا فِیہِ مِنْ صَاحِبِ الشَّرِیعَۃِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ ۔ [صحیح ]
(١٨٧٨٧) حضرت عبداللہ بن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ جس نے حل میں قتل یا چوری کی۔ پھر حرم میں داخل ہوگیا تو ایسے انسان کو پاس بٹھایا نہ جائے کلام نہ کی جائے، اور نہ ہی اسے پناہ دی جائے اور حرم سے نکلنے کا مطالبہ کیا جائے جب وہ حرم سے نکل آئے تو اس پر حد جاری کی جائے۔ اگر کسی نے حل میں قتل یا چوری کی پھر اسے حرم میں اس نیت سے لایا گیا کہ اس پر حد قائم کی جائے تو تم حرم سے نکال کر حل میں لے آؤ اور اگر کسی نے حرم میں قتل یا چوری کی تو پھر حرم کے اندر ہی اس پر حد جاری کی جائے گی۔
شیخ فرماتے ہیں : یہ رائے حضرت عبداللہ بن عباس (رض) کی ہے تو ہم نے ظاہر دلائل کی وجہ سے چھوڑ دیا ہے جو حد کو قائم کرنے کے بارے میں ہے جس میں حرم کی تخصیص نہیں ہے۔