(۱۸۸۰) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا شَبَابَۃُ۔ قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَحَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ الْمَعْنَی عَنِ ابْنِ أَبِی ذِئْبٍ بِإِسْنَادِ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ عَنْ حَمَّادٍ وَمَعْنَاہُ وَقَالَ: بِإِقَامَۃٍ وَاحِدَۃٍ لِکُلِّ صَلاَۃٍ وَلَمْ یُنَادِ فِی الأُولَی وَلَمْ یُسَبِّحْ عَلَی إِثْرِ وَاحِدَۃٍ مِنْہُمَا۔
قَالَ مَخْلَدٌ قَالَ: لَمْ یُنَادِ فِی وَاحِدَۃٍ مِنْہُمَا ہَکَذَا رِوَایَۃُ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ عَنْ أَبِیہِ وَہِیَ أَصَحُّ الرِّوَایَاتِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ۔ وَرَوَاہُ سَعِیدُ بْنُ جُبَیْرٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ کَمَا۔ [صحیح۔ أخرجہ ابو داؤد ۱۹۲۸]
(١٨٨٠) حماد نے اسی معنی میں بیان کیا ہے۔ اس میں ہے کہ ہر نماز کے لیے ایک اقامت کہی اور شروع میں اذان نہیں دی اور نہ ہی ان کے بعد نفلی نماز پڑھی۔ (ب) مخلد کہتے ہیں کہ دونوں کے لیے اذان نہیں کہی۔ اسی طرح سالم بن عبداللہ اپنے والد نقل فرماتے ہیں اور یہ ابن عمر (رض) کی صحیح ترین روایت ہے۔