(١٨٨٠٤) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ قَالَ وَالَّذِی یُرْوَی مِنْ حَدِیثِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِی إِحْلاَلِ ذَبَائِحِہِمْ إِنَّمَا ہُوَ مِنْ حَدِیثِ عِکْرِمَۃَ أَخْبَرَنِیہِ ابْنُ الدَّرَاوَرْدِیِّ وَابْنُ أَبِی یَحْیَی عَنْ ثَوْرٍ الدِّیلِیِّ عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا : أَنَّہُ سُئِلَ عَنْ ذَبَائِحِ نَصَارَی الْعَرَبِ فَقَالَ قَوْلاً حَکَیَاہُ ہُوَ إِحْلاَلُہَا وَتَلاَ { وَمَنْ یَتَوَلَّہُمْ مِنْکُمْ فَإِنَّہُ مِنْہُمْ } وَلَکِنَّ صَاحِبَنَا سَکَتَ عَنِ اسْمِ عِکْرِمَۃَ وَثَوْرٌ لَمْ یَلْقَ ابْنَ عَبَّاسٍ ۔
قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ یَعْنِی بِصَاحِبِنَا مَالِکَ بْنَ أَنَسٍ لَمْ یَذْکُرْ عِکْرِمَۃَ فِی أَکْثَرِ الرِّوَایَاتِ عَنْہُ وَکَأَنَّہُ کَانَ لاَ یَرَی أَنْ یُحْتَجَّ بِہِ وَثَوْرٌ الدِّیلِیُّ إِنَّمَا رَوَاہُ عَنْہُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فَلاَ یَنْبَغِی أَنْ یُحْتَجَّ بِہِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ کَذَا قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فِیمَا رَوَی عَنْہُ عِکْرِمَۃُ وَنَحْنُ إِنَّمَا رَغِبْنَا عَنْہُ لِقَوْلِ عُمَرَ وَعَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا۔[صحیح۔ تقدم قبلہ ]
(١٨٨٠٤) حضرت عبداللہ بن عباس (رض) سے عرب کے عیسائیوں کے ذبیحہ کے بارے میں سوال کیا گیا تو انھوں نے قول کی حکایت کی کہ وہ حلال ہے اور یہ آیت تلاوت کی : { وَ مَنْ یَّتَوَلَّھُمْ مِّنْکُمْ فَاِنَّہٗ مِنْھُمْ } [المائد ٥١] اور جس نے تم میں سے ان کے ساتھ دوستی کی وہ انہی میں سے ہے۔ لیکن مالک بن انس (رض) نے عکرمہ کا نام ذکر نہیں کیا اور ثور کی ملاقات ابن عباس (رض) سے نہیں ہے۔