hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 18814

.

سنن البيهقي

18814
Sunan Al Bayhaqi
(١٨٨٠٨) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَتَّابٍ حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الْمُغِیرَۃِ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی أُوَیْسٍ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ عُقْبَۃَ عَنْ عَمِّہِ مُوسَی بْنِ عُقْبَۃَ فَذَکَرَ مَعْنَی ہَذِہِ الْقَصَّۃِ زَادَ ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - دَعَا عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ لِیُرْسِلَہُ إِلَی قُرَیْشٍ وَہُوَ بِبَلْدَحَ فَقَالَ لَہُ عُمَرُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ لاَ تُرْسِلْنِی إِلَیْہِمْ فَإِنِّی أَتَخَوَّفُہُمْ عَلَی نَفْسِی وَلَکِنْ أَرْسِلْ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ فَأُرْسِلَ إِلَیْہِمْ فَلَقِیَ أَبَانَ بْنَ سَعِیدِ بْنِ الْعَاصِ فَأَجَارَہُ وَحَمَلَہُ بَیْنَ یَدَیْہِ عَلَی الْفَرَسِ حَتَّی جَائَ قُرَیْشًا فَکَلَّمَہُمْ بِالَّذِی أَمَرَہُ بِہِ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَأَرْسَلُوا مَعَہُ سُہَیْلَ بْنَ عَمْرٍو لِیُصَالِحَہُ عَلَیْہِمْ وَبِمَکَّۃَ یَوْمَئِذٍ مِنَ الْمُسْلِمِینَ نَاسٌ کَثِیرٌ مِنْ أَہْلِہَا فَدَعَوْا عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ لِیَطُوفَ بِالْبَیْتِ فَأَبَی أَنْ یَطُوفَ وَقَالَ : مَا کُنْتُ لأَطُوفَ بِہِ حَتَّی یَطُوفَ بِہِ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَرَجَعَ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَمَعَہُ سُہَیْلُ بْنُ عَمْرٍو قَدْ أَجَارَہُ لِیُصَالِحَ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَذَکَرَ قِصَّۃَ الصُّلْحِ وَکِتَابَتِہِ قَالَ : ثُمَّ بَعَثَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - بِالْکِتَابِ إِلَی قُرَیْشٍ مَعَ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ ثُمَّ ذَکَرَ قِصَّۃً فِیمَا کَانَ بَیْنَ الْفَرِیقَیْنِ مِنَ التَّرَامِی بِالْحِجَارَۃِ وَالنَّبْلِ وَارْتِہَانِ الْمُشْرِکِینَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَارْتِہَانِ الْمُسْلِمِینَ سُہَیْلَ بْنَ عَمْرٍو وَدَعَا رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - الْمُسْلِمِینَ إِلَی الْبَیْعَۃِ فَلَمَّا رَأَتْ قُرَیْشٌ ذَلِکَ رَعَبَہُمُ اللَّہُ فَأَرْسَلُوا مَنْ کَانُوا ارْتَہَنُوہُ وَدَعَوْا إِلَی الْمُوَادَعَۃِ وَالصُّلْحِ فَصَالَحَہُمْ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَکَاتَبَہُمْ ۔[ضعیف ]
(١٨٨٠٨) اسماعیل بن ابراہیم بن عقبہ اپنے چچا موسیٰ بن عقبہ سے اس قصہ کے ہم معنیٰ نقل فرماتے ہیں، اس میں کچھ زیادہ ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عمر (رض) کو قریش کی طرف بھیجنے کیلئے بلایا جب بلدح نامی جگہ پر تھے، تو حضرت عمر (رض) نے فرمایا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! مجھے اپنی جان کا خوف ہے۔ آپ حضرت عثمان بن عفان (رض) کو بھیج دیں۔ آپ نے حضرت عثمان بن عفان (رض) کو بھیج دیا۔ جب ان کی ملاقات ابان بن سعید سے ہوئی تو اس نے پناہ دے کر اپنے گھوڑے کی اگلی جانب سوار کر کے قریش کے پاس لائے تو حضرت عثمان (رض) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم کے مطابق قریش سے بات کی، قریش نے سہیل بن عمرو کو صلح کیلئے روانہ کردیا، حضرت عثمان بن عفان (رض) کے مکہ میں بہت زیادہ رشتہ دار تھے، جنہوں نے حضرت عثمان (رض) کو بیت اللہ کے طواف کی دعوت دی تو حضرت عثمان (رض) نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بغیر طواف کرنے سے انکار کردیا، وہ سہیل بن عمرو کو ساتھ لیکر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے تاکہ صلح کرسکیں، اس نے صلح کا قصہ اور معاہدہ کی تحریر کا تذکرہ کیا، پھر اس رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عثمان (رض) کو معاہدہ کی تحریر دے کر روانہ کیا، پھر اس نے دونوں فریقوں کے درمیان جو جنگ بندی ہوئی اس کا تذکرہ کیا۔
پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مسلمانوں کو بیعت کی جانب بلایا، جب قریش نے یہ دیکھا تو ان کے دل میں اللہ نے رعب ڈال دیا تو انھوں نے تمام گروی اشیاء روانہ کردیں اور آپ کو صلح کی دعوت دی۔ آپ نے ان سے صلح کی اور معاہدہ تحریر کروادیا۔