(١٨٨١٧) أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نَاجِیَۃَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا الْوَلِیدُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الْعَلاَئِ بْنِ زَبْرٍ قَالَ سَمِعْتُ بُسْرَ بْنَ عُبَیْدِ اللَّہِ الْحَضْرَمِیَّ یُحَدِّثُ أَنَّہُ سَمِعَ أَبَا إِدْرِیسَ الْخَوْلاَنِیَّ یَقُولُ سَمِعْتُ عَوْفَ بْنَ مَالِکٍ الأَشْجَعِیَّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَقُولُ : أَتَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فِی غَزْوَۃِ تَبُوکَ وَہُوَ فِی قُبَّۃٍ مِنْ أَدَمٍ فَقَالَ لِی : یَا عَوْفُ اعْدُدْ سِتًّا بَیْنَ یَدَیِ السَّاعَۃِ مَوْتِی ثُمَّ فَتْحُ بَیْتِ الْمَقْدِسِ ثُمَّ مُوتَانٌ یَأْخُذُ فِیکُمْ کَقُعَاصِ الْغَنَمِ ثُمَّ اسْتِفَاضَۃُ الْمَالِ فِیکُمْ حَتَّی یُعْطَی الرَّجُلُ مِائَۃَ دِینَارٍ فَیَظَلُّ سَاخِطًا ثُمَّ فِتْنَۃٌ لاَ یَبْقَی بَیْتٌ مِنَ الْعَرَبِ إِلاَّ دَخَلَتْہُ ثُمَّ ہُدْنَۃٌ تَکُونُ بَیْنَکُمْ وَبَیْنَ بَنِی الأَصْفَرِ فَیَغْدِرُونَ فَیَأْتُونَکُمْ تَحْتَ ثَمَانِینَ غَایَۃً تَحْتَ کُلِّ غَایَۃٍ اثْنَا عَشَرَ أَلْفًا۔
قَالَ الْوَلِیدُ فَذَاکَرْنَا ہَذَا الْحَدِیثَ شَیْخًا مِنْ شُیُوخِ الْمَدِینَۃِ فِی قَوْلِہِ ثُمَّ فَتْحُ بَیْتِ الْمَقْدِسِ فَقَالَ الشَّیْخُ أَخْبَرَنِی سَعِیدٌ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّہُ کَانَ یُحَدِّثُ بِہَذَا الْحَدِیثِ عَنْ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَیَقُولُ مَکَانَ : فَتْحُ بَیْتِ الْمَقْدِسِ عُمْرَانُ بَیْتِ الْمَقْدِسِ ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنِ الْحُمَیْدِیِّ عَنِ الْوَلِیدِ بْنِ مُسْلِمٍ دُونَ إِسْنَادِ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ ۔
[صحیح۔ متفق علیہ ]
(١٨٨١٧) حضرت عوف بن مالک فرماتے ہیں کہ میں جنگ تبوک میں نبی مکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا آپ چمڑے کے خیمے میں تھے، آپ نے فرمایا : قیامت سے پہلے چھ نشانیوں کو شمار کرو، میری وفات، بیت المقدس کی فتح، بیشمار اموات جیسے بکریاں اچانک مرجاتی ہیں۔ مال کا زیادہ ہونا یہاں تک کہ ایک شخص کو سو دینار دیا جائے گا، لیکن وہ ناراض ہوجائے گا۔ ایک فتنہ رونما ہوگا جو عرب کے تمام گھروں میں داخل ہوجائے گا تمہارے اور رومیوں کے درمیان صلح ہوجائے گی، لیکن وہ عہد شکنی کریں گے، وہ تمہارے پاس ٨٠ جھنڈوں تلے آئیں گے، ہر جھنڈے کے نیچے وہ بارہ ہزار ہوں گے۔
(ب) مدینہ کے ایک شیخ فرماتے ہیں کہ پھر بیت المقدس کی فتح ہوگی۔ حضرت ابوہریرہ (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل فرماتے ہیں کہ بیت المقدس کی فتح، اس کی آبادی ہے۔