hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 18838

.

سنن البيهقي

18838
Sunan Al Bayhaqi
(١٨٨٣٢) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ عَتَّابٍ الْعَبْدِیُّ حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الْمُغِیرَۃِ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی أُوَیْسٍ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ عُقْبَۃَ عَنْ عَمِّہِ مُوسَی بْنِ عُقْبَۃَ فَذَکَرَ ہَذِہِ الْقَصَّۃَ قَالَ فِیہَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : وَیْلُ أُمِّہِ مِسْعَرَ حَرْبٍ لَوْ کَانَ مَعَہُ أَحَدٌ ۔ وَجَائَ أَبُو بَصِیرٍ بِسَلَبِہِ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَقَالَ : خَمِّسْ یَا رَسُولَ اللَّہِ قَالَ : إِنِّی إِذَا خَمَسْتُہُ لَمْ أُوفِ لَہُمْ بِالَّذِی عَاہَدْتُہُمْ عَلَیْہِ وَلَکِنْ شَأْنَکَ بِسَلَبِ صَاحِبِکَ وَاذْہَبْ حَیْثُ شِئْتَ ۔ فَخَرَجَ أَبُو بَصِیرٍ مَعَہُ خَمْسَۃُ نَفَرٍ کَانُوا قَدِمُوا مَعَہُ مِنَ الْمُسْلِمِینَ مِنْ مَکَّۃَ حَتَّی کَانُوا بَیْنَ الْعِیصِ وَذِی الْمَرْوَۃِ مِنْ أَرْضِ جُہَیْنَۃَ عَلَی طَرِیقِ عِیرَاتِ قُرَیْشٍ مِمَّا یَلِی سِیفَ الْبَحْرِ لاَ یَمُرُّ بِہِمْ عِیرٌ لِقُرَیْشٍ إِلاَّ أَخَذُوہَا وَقَتَلُوا أَصْحَابَہَا وَانْفَلَتَ أَبُو جَنْدَلِ بْنُ سُہَیْلِ بْنِ عَمْرٍو فِی سَبْعِینَ رَاکِبًا أَسْلَمُوا وَہَاجَرُوا فَلَحِقُوا بِأَبِی بَصِیرٍ وَکَرِہُوا أَنْ یَقْدَمُوا عَلَی رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فِی ہُدْنَۃِ الْمُشْرِکِینَ ثُمَّ ذَکَرَ مَا بَعْدَہُ بِمَعْنَی مَا تَقَدَّمَ وَأَتَمَّ مِنْہُ ۔ [ضعیف ]
(١٨٨٣٢) اسماعیل بن ابراہیم بن عقبہ اپنے چچا موسیٰ بن عقبہ سے اس قصہ کے بارے میں نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تیری ماں مرجائے تو لڑائی کی آگ بھڑکانے والا ہے، اگرچہ تیرا ایک ہی ساتھی کیوں نہ ہو اور ابو بصیر مقتول کا سامان لے کر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا، کہنے لگا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! پانچواں حصہ وصول کرلیں، آپ نے فرمایا : اگر میں نے پانچواں حصہ وصول کرلیا تو گویا میں نے ان کا وعدہ پورا نہ کیا، لیکن یہ سامان لے کر جہاں چاہو چلے جاؤ تو ابو بصیر پانچ ساتھیوں سمیت جو مکہ سے آئے تھے عیص اور ذی المروہ جھینہ کی سرزمین جہاں سے قریشیوں کا جو قافلہ بھی گزرتا لوٹ لیتے اور مردوں کو قتل کردیتے۔ ابو جندل بن سھیل بن عمرو ستر آدمیوں کے قافلہ میں مسلمان ہو کر ہجرت کر کے ابو بصیر کے ساتھ جا ملے اور انھوں نے مشرکین کے ساتھ صلح کی وجہ سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جانا پسند نہ کیا ۔