(١٨٨٣٨) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو عَبْدِ اللَّہِ بْنُ قَانِعٍ قَاضَی الْحَرَمَیْنِ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو شُعَیْبٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرَّانِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ یَحْیَی الْحَرَّانِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَۃَ الْحَرَّانِیُّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ عَنْ أَبَانَ بْنِ صَالِحٍ عَنْ مَنْصُورِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ عَنْ رِبْعِیِّ بْنِ حِرَاشٍ عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : خَرَجَ عَبْدَانَ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَوْمَ الْحُدَیْبِیَۃِ قَبْلَ الصُّلْحِ فَکَتَبَ إِلَیْہِ مَوَالِیہِمْ قَالُوا : یَا مُحَمَّدُ وَاللَّہِ مَا خَرَجُوا إِلَیْکَ رَغْبَۃً فِی دِینِکَ وَإِنَّمَا خَرَجُوا ہَرَبًا مِنَ الرِّقِّ فَقَالَ نَاسٌ صَدَقُوا یَا رَسُولَ اللَّہِ رُدَّہُمْ إِلَیْہِمْ فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَقَالَ : مَا أُرَاکُمْ تَنْتَہُونَ یَا مَعْشَرَ قُرَیْشٍ حَتَّی یَبْعَثَ اللَّہُ عَلَیْکُمْ مَنْ یَضْرِبُ رِقَابَکُمْ عَلَی ہَذَا ۔ وَأَبَی أَنْ یَرُدَّہُمْ وَقَالَ : ہُمْ عُتَقَائُ اللَّہِ عَزَّ وَجَلَّ ۔ [ضعیف ]
(١٨٨٣٨) حضرت علی بن ابی طالب (رض) فرماتے ہیں کہ حدیبیہ کے دن صلح سے پہلے دو غلام رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آگئے تو ان کے ورثاء نے لکھا کہ اے محمد ! یہ آپ کے دین میں رغبت کرتے ہوئے نہیں آئے۔ یہ تو صرف غلامی سے نجات چاہتے ہیں۔ لوگوں نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! وہ سچے ہیں، غلاموں کو ان کی جانب واپس کردیا جائے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) غصے ہوگئے اور فرمایا : اے قریشی لوگو ! میرا خیال نہیں کہ تم باز آ جاؤ، جب تک اللہ رب العزت تمہارے اوپر ایسے شخص کو مسلط نہ کر دے، جو تمہاری گردنیں مارے تو آپ نے ان غلاموں کو واپس نہ کیا اور فرمایا : یہ اللہ کے آزاد کردہ ہیں۔