(١٨٨٥٢) اسْتِدْلاَلاً بِمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی وَأَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ طَلْحَۃَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِکِ الأَیْلِیِّ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - عَنْ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - أَنَّہُ قَالَ : مَنْ نَذَرَ أَنْ یُطِیعَ اللَّہَ فَلْیُطِعْہُ وَمَنْ نَذَرَ أَنْ یَعْصِیَ اللَّہَ فَلاَ یَعْصِہِ ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی نُعَیْمٍ وَغَیْرِہِ عَنْ مَالِکٍ ۔
قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ : وَأَسَرَ الْمُشْرِکُونَ امْرَأَۃً مِنَ الأَنْصَارِ وَأَخَذُوا نَاقَۃً لِلنَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَانْفَلَتَتْ الأَنْصَارِیَّۃُ عَلَی نَاقَۃِ النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَنَذَرَتْ إِنْ نَجَّاہَا اللَّہُ عَلَیْہَا أَنْ تَنْحَرَہَا فَذُکِرَ ذَلِکَ لِلنَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَقَالَ : لاَ نَذْرَ فِی مَعْصِیَۃٍ وَلاَ فِیمَا لاَ یَمْلِکُ ابْنُ آدَمَ ۔ [صحیح۔ بخاری ٦٦٩٦۔ ٦٧٠٠]
(١٨٨٥٢) حضرت عائشہ (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل فرماتی ہیں کہ جس نے اللہ کی اطاعت کی نذر مانی وہ اطاعت کرے اور جس نے نافرمانی کی نذر مانی وہ نہ کرے۔
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : مشرکین نے انصاری عورت کو قید کرلیا اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اونٹنی پکڑ لی تو انصاری عورت نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اونٹنی پر بھاگ گئی، تو اس عورت نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اس اونٹنی کو ذبح کرنے کی نذر مانی تھی تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پتہ چلا تو فرمایا : معصیت میں نذر نہیں اور نہ ہی اس میں نذر ہے جس کا ابن آدم مالک نہیں ہے۔