(١٨٨٦٠) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ عَتَّابٍ الْعَبْدِیُّ حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الْمُغِیرَۃِ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی أُوَیْسٍ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ عُقْبَۃَ عَنْ عَمِّہِ مُوسَی بْنِ عُقْبَۃَ قَالَ : ثُمَّ إِنَّ بَنِی نُفَاثَۃَ مِنْ بَنِی الدِّیلِ أَغَارُوا عَلَی بَنِی کَعْبٍ وَہُمْ فِی الْمُدَّۃِ الَّتِی بَیْنَ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَبَیْنَ قُرَیْشٍ وَکَانَتْ بَنُو کَعْبٍ فِی صُلْحِ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَکَانَتْ بَنُو نُفَاثَۃَ فِی صُلْحِ قُرَیْشٍ فَأَعَانَتْ بَنُو بَکْرٍ بَنِی نُفَاثَۃَ وَأَعَانَتْہُمْ قُرَیْشٌ بِالسِّلاَحِ وَالرَّقِیقِ وَاعْتَزَلَہُمْ بَنُو مُدْلِجٍ وَوَفُّوا بِالْعَہْدِ قَالَ وَیَذْکُرُونَ أَنَّ مِمَّنْ أَعَانَہُمْ صَفْوَانُ بْنُ أُمَیَّۃَ وَشَیْبَۃُ بْنُ عُثْمَانَ وَسُہَیْلُ بْنُ عَمْرٍو فَأَغَارَتْ بَنُو الدِّیلِ عَلَی بَنِی عَمْرٍو وَعَامَّتُہُمْ زَعَمُوا النِّسَائُ وَالصِّبْیَانُ وَضُعَفَائُ الرِّجَالِ فَأَثْخَنُوہُمْ وَقَتَلُوا مِنْہُمْ حَتَّی أَدْخَلُوہُمْ دَارَ بُدَیْلِ بْنِ وَرْقَائَ بِمَکَّۃَ قَالَ فَخَرَجَ رَکْبٌ مِنْ بَنِی کَعْبٍ حَتَّی أَتَوْا رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَذَکَرُوا لَہُ الَّذِی أَصَابَہُمْ وَمَا کَانَ مِنْ قُرَیْشٍ عَلَیْہِمْ فِی ذَلِکَ وَالَّذِی أَعَانُوا بِہِ عَلَیْہِمْ ثُمَّ ذَکَرَ جِہَازَ النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَدُخُولَ أَبِی بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَلَیْہِ قَالَ فَقَالَ یَا رَسُولَ اللَّہِ أَتُرِیدُ أَنْ تَخْرُجَ مَخْرَجًا قَالَ : نَعَمْ ۔ قَالَ لَعَلَّکَ تُرِیدُ ابْنَ الأَصْفَرِ قَالَ : لاَ ۔ قَالَ : أَفَتُرِیدُ أَہْلَ نَجْدٍ قَالَ : لاَ ۔ قَالَ : فَلَعَلَّکَ تُرِیدُ قُرَیْشًا قَالَ : نَعَمْ ۔ قَالَ : أَلَیْسَ بَیْنَکَ وَبَیْنَہُمْ مُدَّۃً قَالَ : أَلَمْ یَبْلُغْکَ مَا صَنَعُوا بِبَنِی کَعْبٍ ۔ وَأَذَّنَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فِی النَّاسِ بِالْغَزِوِ ۔
وَأَمَّا الْحَکَمُ بَیْنَ الْمُعَاہِدِینَ فَقَدْ مَضَی ذِکْرُہُ فِی کِتَابِ الْحُدُودِ وَالْغَصْبِ وَغَیْرِہِمَا۔ [ضعیف ]
(١٨٨٦٠) اسماعیل بن ابراہیم بن عقبہ اپنے چچا موسیٰ بن عقبہ سے نقل فرماتے ہیں کہ بنو نفاثہ جو بنو دیل سے ہیں۔ انھوں نے بنو کعب پر حملہ کردیا اور وہ اس معاہدہ کی مدت میں تھے۔ جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور قریشیوں کے درمیان تھا تو بنو کعب صلح میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھے، جبکہ بنو نفاثہ قریشیوں کے ساتھ شامل تھے بنو بکر نے بنو نفاثہ کی مدد کی اور قریشیوں نے اسلحے اور غلاموں سے ان کا تعاون کیا، لیکن بنو مدلج جدا رہے اور انھوں نے عہد کو پورا کیا۔ راوی فرماتے ہیں کہ ان کی مدد صفوان بن امیہ، شیبہ بن عثمان، سھیل بن عمرو نے کی تو بنودیل نے بنو عمرو پر اور ان کے عام لوگوں پر حملہ کردیا، عورتوں بچوں اور کمزور مردوں کا خون بہایا اور ان میں سے بعض بدیل بن ورقاء کے گھر داخل ہوگئے۔ راوی کہتے ہیں : بنو کعب کے ایک سوار نے آ کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اپنا حال سنایا اور جو قریشوں نے ان کے خلاف مدد کی بتایا۔ پھر اس نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تیاری اور ابوبکر (رض) کا آپ کے پاس آنے کا تذکرہ کیا ۔ راوی کہتے ہیں کہ ابوبکر (رض) نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! کیا آپ نکلنے کا ارادہ رکھتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : ہاں لڑائی کا ارادہ ہے۔ ابوبکر (رض) نے کہا : شاہد آپ رومیوں کا ارادہ کرتے ہیں۔ آپ نے فرمایا : نہیں، ابوبکر (رض) نے پوچھا : کیا اہل نجد سے لڑائی کا ارادہ ہے ؟ آپ نے فرمایا : ان سے لڑائی کا کوئی ارادہ نہیں۔ پوچھا : کیا آپ قریش سے لڑائی کا ارادہ رکھتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : ہاں، ابوبکر (رض) کہنے لگے : کیا آپ اور ان کے درمیان معاہدہ نہیں ہے۔ آپ نے فرمایا : کیا تجھے خبر نہیں ملی جو انھوں نے بنو کعب کے ساتھ کیا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں میں جہاد کا اعلان کردیا۔