(١٨٨٦٥) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ عَفَّانَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَیْدٍ عَنْ ہِشَامٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِیرِینَ قَالَ : أُتِیَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ بِہَدِیَّۃِ النَّیْرُوزِ فَقَالَ : مَا ہَذِہِ ؟ قَالُوا : یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ ہَذَا یَوْمُ النَّیْرَوزِ ۔ قَالَ : فَاصْنَعُوا کُلَّ یَوْمٍ فَیْرُوزَ ۔ قَالَ أَبُو أُسَامَۃَ : کَرِہَ أَنْ یَقُولَ نَیْرُوزَ ۔ قَالَ الشَّیْخُ وَفِی ہَذَا کَالْکَرَاہَۃِ لِتَخْصِیصِ یَوْمٍ بِذَلِکَ لَمْ یَجْعَلْہُ الشَّرْعُ مَخْصُوصًا بِہِ ۔ [ضعیف ]
(١٨٨٦٥) محمد بن سیرین فرماتی ہیں کہ حضرت علی (رض) کے پاس تہوار والے دن تحفے لائے گئے تو انھوں نے پوچھا : یہ کیا ہے ؟ تو انھوں نے کہا : اے امیر المؤمنین ! یہ تہوار کا دن ہے۔ فرمایا : تم ہر دن کو فیروز بنا لو تو ابو اسامہ نے کہا : انھوں نے نیروز کہنا بھی پسند نہ کیا۔ شیخ فرماتے ہیں کہ صرف ان کا کسی ایک دن کو مخصوص کرنے کی وجہ سے تھا کیونکہ شریعت نے اس کو مخصوص نہ کیا تھا۔