(١٨٨٨٥) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ نُمَیْرٍ حَدَّثَنَا مُجَالِدٌ عَنِ الشَّعْبِیِّ عَنْ عَدِیِّ بْنِ حَاتِمٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّ النَّبِیَّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَالَ : مَا عَلَّمْتَ مِنْ کَلْبٍ أَوْ بَازٍ ثُمَّ أَرْسَلْتَہُ وَذَکَرْتَ اسْمَ اللَّہِ فَکُلْ مِمَّا أَمْسَکَ عَلَیْکَ ۔ قُلْتُ : وَإِنْ قَتَلَ ؟ قَالَ : إِذَا قَتَلَہُ وَلَمْ یَأْکُلْ مِنْہُ شَیْئًا فَإِنَّمَا أَمْسَکَہُ عَلَیْکَ ۔
فَجَمَعَ بَیْنَہُمَا فِی الْمَنَعِ إِلاَّ أَنَّ ذِکْرَ الْبَازِی فِی ہَذِہِ الرِّوَایَۃِ لَمْ یَأْتِ بِہِ الْحُفَّاظُ الَّذِینَ قَدَّمْنَا ذِکْرَہُمْ عَنِ الشَّعْبِیِّ وَإِنَّمَا أَتَی بِہِ مُجَالِدٌ وَاللَّہُ أَعْلَمُ ۔ وَیُذْکَرُ عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ عَنْ سَلْمَانَ الْفَارِسِیِّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّہُ قَالَ : إِذَا أَرْسَلْتَ کَلْبَکَ أَوْ بَازَکَ أَوْ صَقْرَکَ عَلَی الصَّیْدِ فَأَکَلَ مِنْہُ فَکُلْ وَإِنْ أَکَلَ نِصْفَہُ فَہَذَا جَمْعٌ بَیْنَہُمَا فِی الإِبَاحَۃِ ۔
وَیُذْکَرُ عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ : إِذَا أَکَلَ الْکَلْبُ فَلاَ تَأْکُلْ وَإِذَا أَکَلَ الصَّقْرُ فَکُلْ لأَنَّ الْکَلْبَ تَسْتَطِیعُ أَنْ تَضْرِبَہُ وَالصَّقْرُ لاَ تَسْتَطِیعُ فَہَذَا فَرْقٌ بَیْنَہُمَا وَاللَّہُ أَعْلَمُ ۔
وَفِی حَدِیثِ الثَّوْرِیِّ عَنْ سَالِمٍ الأَفْطَسِ عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ قَالَ : إِذَا أَکَلَ الْبَازِی فَلاَ تَأْکُلْ ۔ وَہَذَا بِخِلاَفِ الأَوَّلِ ۔
وَرُوِیَ عَنِ الرَّبِیعَ بْنِ صَبِیحٍ فِی الْبَازِی أَوِ الصَّقْرِ إِذَا أَکَلَ قَالَ : کَرِہَہُ عَطَائٌ وَعَنْ عِکْرِمَۃَ قَالَ : إِذَا أَکَلَ الْبَازُ وَالصَّقْرُ فَلاَ تَأْکُلْ ۔ [ضعیف ]
(١٨٨٨٥) حضرت عدی بن حاتم (رض) فرماتے ہیں کہ جب تو کتے یا باز کو سکھاکر اللہ کا نام لے کر چھوڑے، اگر وہ شکار تیرے لیے روک لے تو کھا لینا، میں نے پوچھا : اگر وہ قتل کردیں ؟ فرمایا : اگر قتل کرنے کے بعد بھی بغیر کھائے شکار کو روک لے تو کھالیا کرو۔
(ب) سعید بن مسیب (رض) حضرت سلمان فارسی سے نقل فرماتے ہیں کہ جب تو اپنا کتا، بازیا شکرا شکار پر چھوڑے اور وہ شکار سے اگر نصف بھی کھالے تو آپ شکار کو کھا لیں۔ یہ شکار کھانے کی اباحت کے بارے میں ہے۔
(ج) سعید بن جبیر (رض) حضرت عبداللہ بن عباس (رض) سینقل فرماتے ہیں کہ اگر کتا شکار سے کھالے تو نہ کھاؤ۔ اگر شکرا کھالے تو شکار کو کھالو، کیونکہ کتا شکار کو مارنے کی طاقت رکھتا ہے جبکہ شکرا مارنے کی طاقت نہیں رکھتا۔ یہ شکرے اور کتے میں فرق ہے۔
(د) سعید بن جبیر (رض) فرماتے ہیں کہ جب باز شکار سے کھالے تو آپ شکار کو نہ کھائیں۔
(ذ ربیع بن صبیح باز یا شکرے کے بارے میں کہتے ہیں : جب وہ شکار سے کھا لیں۔ فرماتے ہیں کہ حضرت عطائ اور عکرمہ کہتے ہیں کہ جب باز یا شکرا شکار سے کھالے تو تم شکار کا گوشت نہ کھاؤ۔