(١٨٩٠٣) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ قَالَ قَالَ الشَّافِعِیُّ : مَا أَصْمَیْتَ مَا قَتَلَتْہُ الْکِلاَبُ وَأَنْتَ تَرَاہُ وَمَا أَنْمَیْتَ مَا غَابَ عَنْکَ مَقْتَلُہُ ۔
قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ : وَلاَ یَجُوزُ عِنْدِی فِیہِ إِلاَّ ہَذَا إِلاَّ أَنْ یَکُونَ جَائَ عَنِ النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - شَیْئٌ فَإِنِّی أَتَوَہَّمُہُ فَیَسْقُطَ کُلُّ شَیْئٍ خَالَفَ أَمْرَ النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَلاَ یَقُومُ مَعَہُ رَأْیٌ وَلاَ قِیَاسٌ فَإِنَّ اللَّہَ قَطَعَ الْعُذْرَ لِقَوْلِہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) -۔ قَالَ الشَّیْخُ وَہَذَا الَّذِی تَوَہَّمَہُ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ فِیمَا۔ [صحیح ]
(١٨٩٠٣) امام شافعی (رض) : فرماتے ہیں کہ اصماء ایسا شکار ہے جس کو آپ کے دیکھتے ہوئے کتے ہلاک کردیں اور انماء ایسا شکار جو آپ سے غائب ہو کر مرے۔ امام شافعی (رض) فرماتے ہیں کہ میرے نزدیک صرف وہی بات درست ہے جو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے منقول ہو اور ہر وہ چیز جو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم کے مخالف ہو وہ ساقط ہوجاتی ہے۔ رائے اور قیاس اس کے برابر نہیں ہوتا کیونکہ اللہ نے عذر ختم کردیا ہے۔