(۱۸۹۴) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو سَعِیدٍ: مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَی بْنِ الْفَضْلِ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ: مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبِرْتِیُّ الْقَاضِی حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا أَبَانُ الْعَطَّارُ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ: عَرَّسَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- بِنَا مَرْجِعَہُ مِنْ خَیْبَرَ فَقَالَ: مَنْ یَحْفَظُ عَلَیْنَا الصَّلاَۃَ؟ ۔ فَقَالَ بِلاَلٌ: أَنَا۔ فَنَامُوا حَتَّی طَلَعَتِ الشَّمْسُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((یَا بِلاَلُ نِمْتَ؟))۔ قَالَ: أَخَذَ بِنَفْسِی الَّذِی أَخَذَ بِأَنْفَاسِکُمْ ، فَأَمَرَ بِلاَلاً فَأَذَّنَ وَأَقَامَ وَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((تَحَوَّلُوا عَنْ مَکَانِکُمُ الَّذِی أَصَابَتْکُمْ فِیہِ الْغَفْلَۃُ))۔ وَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((مَنْ نَسِیَ صَلاَۃً فَلْیُصَلِّہَا إِذَا ذَکَرَہَا ، فَإِنَّ اللَّہَ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ {أَقِمِ الصَّلاَۃَ لِذِکْرِی})) ۔
وَرَوَاہُ مَالِکٌ فِی الْمَوْطَإِ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنِ ابْنِ الْمُسَیَّبِ مُرْسَلاً وَذَکَرَ فِیہِ الأَذَانَ۔ وَالأَذَانُ فِی ہَذِہِ الْقِصَّۃِ صَحِیحٌ ثَابِتٌ قَدْ رَوَاہُ غَیْرُ أَبِی ہُرَیْرَۃَ۔ [صحیح]
(١٨٩٤) سیدنا ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمارے ساتھ پڑاؤ ڈالا، جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خیبر سے لوٹے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کون ہماری نماز کی حفاظت کرے گا ؟ بلال (رض) نے کہا : میں، (رات کو) وہ سو گئے یہاں تک کہ سورج طلوع ہوگیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے بلال ! آپ سو گئے تھے ؟ انھوں نے کہا : میری جان کو اس نے پکڑ لیا جس کو آپ کی جانوں نے پکڑا تھا (یعنی نیند نے) ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بلال (رض) کو حکم دیا تو انھوں نے اذان دی اور اقامت کہی، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اپنی جگہ سے کوچ کرو یہاں تم کو غفلت پہنچی ہے۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم میں سے اگر کوئی نماز بھول جائے تو جب اس کو یاد آئے وہ پڑھ لے۔ اللہ عزوجل نے فرمایا : { أَقِمِ الصَّلاَۃَ لِذِکْرِی }
(ب) مؤطا میں زہری نے ابن مسیب سے مرسلاًنقل کیا ہے اور اس میں اذان کا ذکر کیا ہے۔ نیز فرماتے ہیں کہ اس قصے میں اذان کا کہنا صحیح اور ثابت ہے۔