hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 18956

.

سنن البيهقي

18956
Sunan Al Bayhaqi
(١٨٩٥٠) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا : یَحْیَی بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الطَّرَائِفِیُّ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ صَالِحٍ عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ صَالِحٍ عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَلْحَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا فِی ہَذِہِ الآیَۃِ قَالَ { وَمَا أُہِلَّ لِغَیْرِ اللَّہِ بِہِ } [المائدۃ ٣] یَعْنِی مَا أُہِلَّ لِلطَّوَاغِیتِ کُلِّہَا { وَالْمُنْخَنِقَۃُ } [المائدۃ ٣] الَّتِی تَنْخَنِقُ فَتَمُوتُ { وَالْمَوْقُوذَۃُ } [المائدۃ ٣] الَّتِی تُضْرَبُ بِالْخَشَبِ حَتَّی تَقِذَہَا فَتَمُوتُ { وَالْمُتَرَدِّیَۃُ } [المائدۃ ٣] الَّتِی تَتَرَدَّی مِنَ الْجَبَلِ فَتَمُوتُ { وَالنَّطِیحَۃُ } [المائدۃ ٣] الشَّاۃُ تَنْطَحُ الشَّاۃَ { وَمَا أَکَلَ السَّبُعُ } [المائدۃ ٣] یَقُولُ مَا أَخَذَ السَّبُعُ فَما أَدْرَکْتَ مِنْ ہَذَا کُلِّہِ فَتَحَرَّکَ لَہُ ذَنَبٌ أَوْ تَطْرِفُ لَہُ عَیْنٌ فَاذْبَحْ وَاذْکُرِ اسْمَ اللَّہِ عَلَیْہِ فَہُوَ حَلاَلٌ۔ وَقَالَ فِی مَوْضِعٍ آخَرَ مِنْ ہَذَا التَّفْسِیرِ إِلاَّ مَا ذَکَّیْتُمْ قَالَ یَقُولُ مَا ذَکَّیْتُمْ مِنْ ہَؤُلاَئِ وَبِہِ رُوحٌ فَکُلُوہُ فَہُوَ ذَبِیحٌ وَمَا ذُبِحَ عَلَی النُّصُبِ وَالنُّصُبُ أَنْصَابٌ کَانُوا یَذْبَحُونَ وَیُہِلُّونَ عَلَیْہَا وَفِی مَوْضِعٍ آخَرَ مِنْ ہَذَا التَّفْسِیرِ قَالَ : ہِیَ الأَصْنَامُ وَفِی قَوْلِہِ { وَأَنْ تَسْتَقْسِمُوا بِالأَزْلاَمِ } [المائدۃ ٣] یَعْنِی الْقِدَاحَ کَانُوا یَسْتَقْسِمُونَ بِہَا فِی الأُمُورِ { ذَلِکُمْ فِسْقٌ} [المائدۃ ٣] یَعْنِی مَنْ أَکَلَ مِنْ ذَلِکَ کُلِّہِ فَہُوَ فِسْقٌ۔ [ضعیف ]
(١٨٩٥٠) حضرت علی بن ابو طلحہ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) سے اللہ کے اس ارشاد : { مَآ اُھِلَّ لِغَیْرِ اللّٰہِ بِہٖ } کے بارے میں نقل فرماتے ہیں کہ اس سے مراد جوتیوں کے نام پر چھوڑ جائے۔ اور المنخنقۃ ایسا جانور جس کا گلا گھونٹ کر مارا گیا ہو، الموقوذہ، ایسا جانور جو لکڑی کی چوٹ سے مارا جائے، المتردیۃ، ایسا جانور جو پہاڑ سے گر کر مرجائے، النطیحۃ، وہ بکری جو دوسری بکری کے سینگ لگنے کی وجہ سے ہلاک ہوجائے، وما اکل السبع، جس کو درندے نے پھاڑ کھایا، آپ نے پکڑا تو اس کی دم حرکت کر رہی تھی اور آنکھ بھی متحرک تھی تو اللہ کا نام لے کر ذبح کرو۔ یہ حلال ہے، ایک دوسری جگہ اس کی تفسیر الا ما ذکیتم، ایسے جانور جن میں روح ہو تم ذبح کرلو وہ حلال ہے، وما ذبح علی النصب، جن کو تھانوں پر ذبح کیا گیا ہو، ان کے نام پر مشھور کیا گیا ہو، دوسری تفسیر میں ہے کہ یہ بت ہیں، ان تستقسموا با لازلٰم، ایسے تیر جن کے ذریعے قسمت کا حال معلوم کرتے ہیں، ذٰلکم فسق، جس نے ان جانوروں سے کچھ کھایا یہ گناہ ہے۔