(١٩٠٣١) أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا تَمْتَامٌ حَدَّثَنَا ابْنُ بِنْتِ السُّدِّیِّ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الأَصْبَہَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنِ حَیَّانَ حَدَّثَنَا أَبُو یَعْلَی حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُوسَی وَہُوَ ابْنُ بِنْتِ السُّدِّیِّ حَدَّثَنَا شَرِیکٌ عَنْ سِمَاکٍ عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا رَفَعَہُ قَالَ : کُتِبَ عَلَیَّ النَّحْرُ وَلَمْ یُکْتَبْ عَلَیْکُمْ ۔ زَادَ الأَصْبَہَانِیُّ فِی رِوَایَتِہِ : وَأُمِرْتُ بِصَلاَۃِ الضُّحَی وَلَمْ تُؤْمَرُوا بِہَا ۔ کَذَا قَالاَ عَنْ سِمَاکٍ ۔
(١٩٠٣١) عکرمہ حضرت عبداللہ بن عباس سے مرفوعاً نقل فرماتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : قربانی میرے اوپر فرض جبکہ تمہارے اوپر فرض نہیں ہے۔ اصبہانی نے اپنی روایت میں زیادہ کیا ہے کہ مجھے نماز چاشت کا حکم دیا گیا ہے جبکہ تمہیں حکم نہیں دیا گیا۔ [ضعیف ]