(١٩٠٤٠) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مَرْزُوقٍ حَدَّثَنَا وَہْبُ بْنُ جَرِیرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ عُقَیْلِ بْنِ طَلْحَۃَ عَنْ أَبِی الْخَصِیبِ رَجُلٌ مِنْ بَنِی قَیْسِ بْنِ ثَعْلَبَۃَ قَالَ : شَہِدْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا وَسَأَلَہُ رَجُلٌ عَنْ شَیْئٍ مِنْ أَمْرِ الأَضْحَی فَقَالَ : أَکْرَہُ أَوِ اجْتَنِبْ شَکَّ وَہْبٌ الْعَوْرَائَ الْبَیِّنَ عَوَرُہَا وَالْعَرْجَائَ الْبَیِّنَ عَرَجُہَا وَالْمَرِیضَۃَ الْبَیِّنَ مَرَضُہَا وَالْمَہْزُولَۃَ الْبَیِّنَ ہُزَالُہَا ثُمَّ قَالَ لَہُ ابْنُ عُمَرَ : لَعَلَّکَ تَحْسِبُہُ حَتْمًا۔
قُلْتُ : لاَ وَلَکِنَّہُ أَجْرٌ وَخَیْرٌ وَسُنَّۃٌ قَالَ : نَعَمْ ۔
قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ : وَلاَ یَعْدُو الْقَوْلُ فِی الضَّحَایَا ہَذَا أَوْ تَکُونُ وَاجِبَۃً فَہِیَ عَلَی کُلِّ أَحَدٍ صَغِیرٍ وَکَبِیرٍ لاَ یَجْزِی غَیْرُ شَاۃٍ عَنْ کُلِّ أَحَدٍ ۔ [ضعیف ]
(١٩٠٤٠) قیس بن ثعلبہ کا ایک شخص ابوخصیب حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کے پاس حاضر ہوا تو ان سے کسی شخص نے قربانی کے متعلق سوال کیا۔ کہتے ہیں : میں ناپسند کرتا ہوں یا تو اجتناب کر ( وھب کو شک ہے) بلکہجس کا بھینگا پن ظاہر ہو اور لنگڑا جانور، ایسا بیمار جانور جس کی بیماری ظاہر ہو اور ایسا کمزور جانور جس کی کمزوری واضح ہو۔ پھر ابن عمر (رض) نے فرمایا : نہ ہی تو اس کو لازم جان لے کہتے ہیں یہ تو ثواب، خیر اور سنت ہے۔ فرمایا ایسا ہی ہے۔
امام شافعی (رح) فرماتے : قربانیوں کے متعلق اس قول کو شمار نہ کریں گے یا یہ واجب ہے لیکن ایک بکری سے کم کسی چھوٹے بڑے سے کفایت نہ کرے گی۔