(١٩٢٣٠) أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِیرُوَیْہِ الْہَرَوِیُّ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ یُونُسَ حَدَّثَنَا زُہَیْرٌ حَدَّثَنَا قَابُوسُ بْنُ أَبِی ظَبْیَانَ أَنَّ أَبَاہُ حَدَّثَہُ قَالَ قُلْنَا لاِبْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا : أَرَأَیْتَ الْقَانِعَ وَالْمُعْتَرَّ مَا الْقَانِعُ وَالْمُعْتَرُّ ؟ قَالَ : أَمَّا { الْقَانِعَ } [الحج ٢٨] فَالْقَانِعُ بِمَا أَرْسَلْتَ إِلَیْہِ فِی بَیْتِہِ { وَالْمُعْتَرَّ } [الحج ٢٨] الَّذِی یَعْتَرِیکَ ۔ [ضعیف ]
(١٩٢٣٠) قابوس بن ابی ظبیان فرماتے ہیں کہ ہم نے عبداللہ بن عباس (رض) سے کہا : قانع اور معتر کون ہوتا ہے ؟ فرمایا : ” القانع “ وہ شخص جس کے گھر آپ ضرورت کی چیز بھیج دیں۔ ” المعتر “ جو اپنی ضرورت تمہارے سامنے بیان کرے۔