(١٩٢٧٩) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ السُّکَّرِیُّ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ أَخْبَرَنِی عَطَائٌ بِہَذَا الْحَدِیثِ قُلْتُ یَعْنِی لِعَطَائٍ : وَمَا الْمُکَافَأَتَانِ قَالَ : الْمِثْلاَنِ وَالضَّأْنُ أَحَبُّ إِلَیْہِ مِنَ الْمَعِزِ وَذُکْرَانِہَا أَحَبُّ إِلَیْہِ مِنْ إِنَاثِہَا رَأْیٌ مِنْہُ قَالَ إِنْسَانٌ لِعَطَائٍ : أَرَأَیْتَ إِنْ ذَبَحْتُ مَکَانَہَا جَزُورًا قَالَ : ابْدَأْ بِالَّذِی سَمَّی ثُمَّ اذْبَحْ بَعْدُ مَا شِئْتَ قُلْتُ لَہُ : وَالسُّنَّۃُ قَالَ : وَالسُّنَّۃُ ۔
[صحیح ]
(١٩٢٧٩) ابن جریج عطاء سے اس حدیث کو بیان کرتے ہوئے پوچھتے ہیں کہ مکافاتان کیا ہے فرمایا : دونوں ایک جیسی ہوں اور بھیڑ بکری سے زیادہ محبوب ہے اور مذکر مونث سے زیادہ۔ یہ ان کی اپنی رائے ہے۔ عطاء سے کسی نے کہا کہ اگر میں اس کی جگہ اونٹ ذبح کر دوں ؟ تو فرمایا : اس سے ابتدا کر جس کا نام لیا گیا ہے۔ اس کے بعد جو تیرا دل چاہے کہ میں نے ان سے کہا : کیا یہ سنت طریقہ ہے۔ فرمانے لگے : ہاں یہ سنت طریقہ ہے۔