(۱۹۳۰) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ: عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ وَأَبُو الْحَسَنِ: مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ إِسْحَاقَ الْبَزَّازُ بِبَغْدَادَ قَالاَ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ: عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ الْفَاکِہِیُّ بِمَکَّۃَ حَدَّثَنَا أَبُو یَحْیَی بْنُ أَبِی مَسَرَّۃَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یَزِیدَ الْمُقْرِئُ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ أَبِی أَیُّوبَ حَدَّثَنَا کَعْبُ بْنُ عَلْقَمَۃَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((إِذَا سَمِعْتُمُ الْمُؤَذِّنَ یُؤَذِّنُ فَقُولُوا کَمَا یَقُولُ ، وَصَلُّوا عَلَیَّ ، فَإِنَّہُ لَیْسَ أَحَدٌ یُصَلِّی عَلَیَّ صَلاَۃً إِلاَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ عَشْرًا، وَسَلُوا اللَّہَ لِیَ الْوَسِیلَۃَ ، فَإِنَّ الْوَسِیلَۃَ مَنْزِلَۃٌ فِی الْجَنَّۃِ ، لاَ یَنْبَغِی أَنْ تَکُونَ إِلاَّ لِعَبْدٍ مِنْ عِبَادِ اللَّہِ ، وَأَرْجُو أَنْ أَکُونَہُ ، وَمَنْ سَأَلَہَا لِی حَلَّتْ عَلَیْہِ شَفَاعَتِی یَوْمَ الْقِیَامَۃِ))۔ [صحیح۔ أخرجہ مسلم ۳۸۴]
(١٩٣٠) عبداللہ بن عمرو سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تم مؤذن کو سنو کہ وہ اذان دیتا ہے تو اس طرح کہو : جس طرح وہ کہتا ہے اور مجھ پر درود پڑھو، بیشک جو مجھ پر درودپڑھتا ہے تو اللہ اس پر دس رحمتیں نازل فرماتا ہے اور میرے لیے وسیلے کا سوال کرو، بیشک وسیلہ جنت میں ایک مقام ہے جو اللہ کے بندوں میں سے کسی کے لیے لائق نہیں مگر میں امید کرتا ہوں کہ وہ میں ہی ہوں گا (جو سفارش کروں گا) اور جس نے میرے لیے سوال کیا تو قیامت کے دن اس پر میری شفاعت حلال ہوجائے گی۔