(١٩٣٩٠) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَحْبُوبٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَجِیدِ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِیَادٍ عَنْ شُعْبَۃَ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ مَیْسَرَۃَ عَنْ زَیْدِ بْنِ وَہْبٍ قَالَ : أَتَاہُمْ کِتَابُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَہُمْ فِی بَعْضِ الْمَغَازِی بَلَغَنِی أَنَّکُمْ فِی أَرْضٍ تَأْکُلُونَ طَعَامًا یُقَالُ لَہُ الْجُبْنُ فَانْظُرُوا مَا حَلاَلُہُ مِنْ حَرَامِہِ وَتَلْبَسُونَ الْفِرَائَ فَانْظُرُوا ذَکِیَّہُ مِنْ مَیْتَتِہِ ۔
[حسن ]
(١٩٣٩٠) زید بن وہب فرماتے ہیں کہ ان کے پاس عمر بن خطاب (رض) کا خط آیا ۔ وہ کسی غزوہ میں مصروف تھے کہ مجھے خبر پہنچی ہے کہ تم پنیر کھاتے ہو، دیکھ لینا کیا چیز حلال ہے اور کیا حرام اور تم گورخر کا شکار کرتے ہو تو اس کے ذبیحہ کو دیکھ لیا کرو، مردار سے۔