hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 194

.

سنن البيهقي

194
Sunan Al Bayhaqi
(۱۹۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نُصَیْرٍ الْخُلْدِیُّ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ ہَارُونَ الْبَزَّازُ حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَی الْمَخْزُومِیُّ عَنْ یَعْقُوبَ بْنِ سَلَمَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ-: ((لاَ صَلاَۃَ لِمَنْ لاَ وُضُوئَ لَہُ ، وَلاَ وُضُوئَ لِمَنْ لَمْ یَذْکُرِ اسْمَ اللَّہِ عَلَیْہِ))۔ (ج) وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ:أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَالِینِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِیٍّ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصٍ السَّعْدِیُّ قَالَ:سُئِلَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ یَعْنِی وَہُوَ حَاضِرٌ عَنِ التَّسْمِیَۃِ فِی الْوُضُوئِ فَقَالَ: لاَ أَعْلَمُ فِیہِ حَدِیثًا ثَابِتًا أَقْوَی شَیْئٍ فِیہِ حَدِیثُ کَثِیرِ بْنِ زَیْدٍ عَنْ رُبَیْحٍ ، وَرُبَیْحٌ رَجُلٌ لَیْسَ بِمَعْرُوفٍ۔ وَبَلَغَنِی عَنْ أَبِی عِیسَی التِّرِمِذِیِّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِیلَ الْبُخَارِیِّ أَنَّہُ قَالَ: لَیْسَ فِی ہَذَا الْباب حَدِیثٌ أَحْسَنَ عِنْدِی مِنْ حَدِیثِ رَبَاحِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ۔ (ت) قَالَ أَبُو عِیسَی:وَرُوِیَ ہَذَا الْحَدِیثُ عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَۃَ عَنْ صَدَقَۃَ مَوْلَی ابْنِ الزُّبَیْرِ عَنْ أَبِی ثَفَالٍ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ حُوَیْطِبٍ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ-وَہُوَ حَدِیثٌ مُرْسَلٌ۔ (ج) قَالَ الشَّیْخُ: وَأَبُو ثِفَالٍ لَیْسَ بِالْمَعْرُوفِ۔ وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْفَارِسِیُّ أَخْبَرَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَیْمَانَ بْنِ فَارِسٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِیلَ الْبُخَارِیِّ قَالَ: سَلَمَۃُ اللَّیْثِیُّ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ یَعْنِی فِی التَّسْمِیَۃِ: لاَ یُعْرَفُ لِسَلَمَۃَ سَمَاعٌ مِنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ وَلاَ لِیَعْقُوبَ مِنْ أَبِیہِ۔ [حسن لغیرہٖ]
(١٩٥) سیدنا ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” اس شخص کی نماز نہیں ہوتی جس نے وضو نہیں کیا اور اس شخص کا وضو نہیں ہوتا جس نے بسم اللہ نہ پڑھی۔ “
(ب) امام احمد بن حنبل (رح) سے وضو سے پہلے بسم اللہ پڑھنے کے متعلق سوال کیا گیا تو انھوں نے فرمایا : میرے علم کے مطابق ایسی کوئی حدیث ثابت نہیں جو کثیر بن زید عن ربیح ہے۔ ربیح غیر معروف شخص ہے۔
(ج) امام ترمذی (رح) امام بخاری (رح) سے نقل کرتے ہیں کہ امام بخاری (رح) نے فرمایا : میرے نزدیک اس باب میں رباح بن عبدالرحمن والی حدیث سے زیادہ اچھی کوئی روایت نہیں۔
(د) ابوبکر بن حویطب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مرسل روایت فرماتے ہیں۔
(ر) شیخ کہتے ہیں : ابو ثقال غیر معروف ہے۔
(س) امام بخاری (رح) کہتے ہیں کہ لیثی والی سند جو سیدنا ابوہریرہ (رض) سے بسم اللہ کے بارے میں ہے۔ اس میں مسلمہ کا حضرت ابوہریرہ سے، یعقوب کا اپنے باپ سے سماع ثابت نہیں۔