(١٩٤١١) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ وَأَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی بِنَیْسَابُورَ قَالاَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ : أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ حَدَّثَنَا أَبُو قِلاَبَۃَ : عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا وَہْبُ بْنُ جَرِیرٍ عَنْ شُعْبَۃَ عَنْ تَوْبَۃَ الْعَنْبَرِیِّ قَالَ قَالَ لِی الشَّعْبِیُّ : أَرَأَیْتَ الْحَسَنَ حِینَ یُحَدِّثُ عَنِ النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - إِنِّی جَالَسْتُ ابْنَ عُمَرَ قَرِیبًا مِنْ سَنَتَیْنِ فَمَا سَمِعْتُہُ یُحَدِّثُ عَنِ النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - غَیْرَ أَنَّہُ قَالَ ذَاتَ یَوْمٍ : کَانَ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَأْکُلُونَ عِنْدَہُ ضَبًّا فِیہِمْ سَعْدُ بْنُ مَالِکٍ فَنَادَتْہُمُ امْرَأَۃٌ مِنْ أَزْوَاجِ النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - إِنَّہُ ضَبٌّ فَأَمْسَکَ الْقَوْمُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : کُلُوا فَإِنَّہُ لَیْسَ بِحَرَامٍ وَلاَ بَأْسَ بِہِ وَلَکِنَّہُ لَیْسَ مِنْ طَعَامِ قَوْمِی۔ وَفِی رِوَایَۃِ أَبِی زَکَرِیَّا : أَوْ لاَ بَأْسَ بِہِ ۔
أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ وَمُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ غُنْدَرٍ وَغَیْرِہِ عَنْ شُعْبَۃَ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
(١٩٤١١) توبہ عنبری کہتے ہیں کہ شعبی نے مجھے کہا کہ حضرت حسن جب کوئی حدیث نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت فرماتے ہیں تو فرماتے ہیں کہ میں ابن عمر (رض) کے پاس دو سال رہا کہ لوگوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بیٹھ کر گوہ کھائی، جن میں سعد بن مالک بھی تھے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی کسی بیوی نے آواز دی کہ یہ گوہ ہے تو لوگ کھانے سے رک گئے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کھاؤ یہ حرام نہیں ہے میں نہیں کھاتا کیونکہ میری قوم کا یہ کھانا نہیں ہے، میری قوم نہیں کھاتی۔