(١٩٤٣٣) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا غَالِبُ بْنُ حَجْرَۃَ حَدَّثَنِی مِلْقَامُ بْنُ تَلِبٍ عَنْ أَبِیہِ قَالَ : صَحِبْتُ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَلَمْ أَسْمَعْ لِحَشَرَۃِ الأَرْضِ تَحْرِیمًا۔ وَہَذَا إِنْ صَحَّ لَمْ یَدُلَّ عَلَی الإِبَاحَۃِ وَمَا لَمْ یَسْمَعْ وَسَمِعَہُ غَیْرُہُ فَالْحُکْمُ لِلسَّامِعِ دُونَہُ وَقَدْ رُوِّینَا عَنِ النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - مَا دَلَّ عَلَی تَحْرِیمِ الْعَقْرَبِ وَالْحَیَّۃِ فَکَذَلِکَ مَا فِی مَعْنَاہُمَا مِمَّا تَسْتَخْبِثُہُ الْعَرَبُ وَلاَ تَأْکُلُہُ فِی غَیْرِ الضَّرُورَۃِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ ۔ [ضعیف ]
(١٩٤٣٣) ملقام بن تلب اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے حشرات الارض کی حرمت کے بارے میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نہیں سنا۔ اگر یہ صحیح بھی ہو تب بھی ان کی اباحت پر دلالت نہیں کرتا۔ لیکن سانپ اور بچھو کی حرمت نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے منقول ہے اور عرب بھی بغیر ضرورت کے ان کا استعمال نہ کرتے تھے۔